Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

لے جاؤ کیونکہ وہ خدیجہ کی سہیلی تھی، اسے فلاں عورت کے گھر لے جاؤ کیونکہ وہ خدیجہ سے محبت کرتی تھی۔ ([1])

بکری کے گوشت کا تحفہ

آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت دفعہ بکری ذبح فرماتے پھر اس کے اَعْضَا کاٹتے پھر وہ جنابِِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سہیلیوں کے پاس بھیج دیتے۔ حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں:  میں کبھی حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہہ دیتی کہ گویا خدیجہ کے سِوا دنیا میں کوئی عورت ہی نہ تھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے:  وہ ایسی تھیں، وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۔ ([2])

شرحِ حدیث:

مفسر شہیر، مُحَدِّثِ جلیل حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان اس حدیث شریف کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:  (حضرتِ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ)  جب میں حُضُورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زبانِ پاک سے ان کی بہت تعریف سنتی تو جوشِ غیرت میں عَرْض کرتی کہ یارسولَ اللہ! حُضُور تو اُن کی ایسی تعریفیں کرتے ہیں کہ گویا اُن کے سِوا کوئی بیوی آپ کو ملی ہی نہیں یا اُن کے سِوا دنیا میں کوئی بی بی ہے ہی نہیں۔ (اور حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرمان کہ ”وہ ایسی تھیں، وہ ایسی تھیں“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:  ا س سے) جنابِِ خدیجہ کے بہت سے صِفات کی طرف اِشارہ ہے یعنی وہ بہت روزہ دار، تہجد گُزار، میری بڑی خدمت گُزار، میری تنہائی کی مُوْنِس، میری غم گُسَار، غارِ حِرا کے چِلّے (یعنی خلوت نشینی کے دوران) میں میری مددگار تھیں اور میری ساری اَوْلاد انہیں سے ہے۔ ([3])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یادِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا

ایک بار حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی بہن حضرتِ ہالہ بنتِ خُوَیْلِد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سرکارِ رِسالَت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضِر ہونے کی اجازت طلب کی، ان کی آواز حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے بہت ملتی تھی چنانچہ اس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا اجازت طلب کرنا یاد آ گیا اور  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جُھرجُھری لی۔([4])

قربان جائیے! جب شہنشاہِ ابرار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یادوں کو اپنے دل کے گلدستے میں سجانےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَداؤں کو اَپنانے والا بڑے بڑے مَراتِب پالیتا ہے تو جنہیں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ياد فرمائیں، جن کے فِراق میں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گِرْیَہ فرمائیں اور جن کے متعلقین کا حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِکْرَام فرمائیں اُن کی عظمت وشان اور رتبے کا کیا عالَم ہو گا اور کیوں نہ ان کے نصیب پر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن رشک فرمائیں؟  

 



[1]    الادب المفرد، باب قول المعروف، ص۷۸، الحديث:۲۳۲.

[2]    صحيح البخارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم الخ، ص۹۶۲، الحديث۳۸۱۸.

[3]    مراٰۃ المناجیح، ازواج پاک کے فضائل، پہلی فصل، ۸ /۴۹۷.

[4]    صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب تزویج النبی الخ، ص۹۶۲، الحديث۳۸۲۱.



Total Pages: 39

Go To