Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

مُتَفَرِّق فضائل و مَناقِب

کثرتِ ذکر

اُمُّ المؤمنین، زوجۂ سیِّدُ المرسلین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، سیِّدُ الْاَنبیا، محبوبِ کِبْرِیَا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے پہلی زوجہ مطہرہ ہیں۔ ایک قول کے مُطابِق حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سب سے پہلے آپ نے ہی ایمان لانے کی سعادت حاصِل کی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے فضائل و مناقِب بے شمار ہیں۔ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے بہت محبت تھی حتی کہ جب آپ کا وِصال ہو گیا تو کثر ت سے آپ کا ذکر  فرماتے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سہیلیوں کا اس قدر اِکرام فرماتے کہ جب کبھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں کوئی شے حاضِر کی جاتی تو بارہا اِن کی طرف بھیج دیتے  حتی کہ یہی کثرتِ ذِکْر اور پیار و محبت اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پر رشک کا باعِث بنا چنانچہ خود فرماتی ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ازواجِ پاک میں سے کسی پر اتنی غیرت نہیں کی جتنی جنابِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا پرکی۔ حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہیں تھا لیکن حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کا بہت ذِکْر فرماتے تھے۔([1])

شرحِ حدیث:

مفسر شہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی حدیثِ مذکورہ بالا کی شرح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:  یہاں غیرت بمعنی شرم و حَیَا (اور) بمعنی حَسَد نہیں بلکہ بمعنی رشک یا غبطہ ہے۔ دینی اُمُور میں رشک جائز ہے، جنابِِ عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) نے حضرتِ خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کی محبوبیت دیکھ کر رشک فرمایا کہ میں بھی ان کی طرح حُضُورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی محبوبہ ہوتی کہ مجھے حُضُورِ انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم میری وفات کے بعد اسی طرح تعریفیں فرماتے جیسی ان کی فرماتے ہیں۔ خیال رہے کہ جنابِِ عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بڑی ہی محبوبہ زوجہ ہیں، آپ کی محبوبیت بی بی خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کی محبوبیت سے کسی طرح کم نہیں، رشک اس بات میں ہے جو ہم نے عَرْض کی ( کہ) بعدِ وفات محبتِ مصطفےٰ کا جوش۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَاکی سہیلی کا اِکْرَام

محبوب سے نسبت رکھنے والی چیز بھی محبوب ہوتی ہے اور اس کا اَدَب و اِحْتِرام کیا جاتا ہے۔اس محبت کا اِظْہار سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور سیِّدہ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے درميان بھی دیکھا جا سکتا ہے،چنانچہ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی وفات کے بعد حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی بلند وبالا شان ورِفْعَتِ مقام کے باوجود حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی سہیلیوں کا اِکْرام فرمایا کرتے تھے، بارہا جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اقدس میں کوئی شے پیش کی جاتی تو فرماتے:  اسے فلاں عورت کے پاس



[1]   صحيح البخارى، كتاب مناقب الانصار، باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم الخ، ص۹۶۲، الحديث:۳۸۱۸.

[2]   مراٰۃ المناجیح، ازواج پاک کے فضائل، پہلی فصل، ۸ / ۴۹۶.



Total Pages: 39

Go To