Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

وقت کی الٹ پھیر میں...

}حُضُور صاحِبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہجرت فرما کر مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا تشریف لے آنے کے بعد اسے حضرتِ عقیل بن ابوطالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے لے لیا۔ ([1])

}پھر حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعَاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے اپنے دَورِ حکومت میں اسے خرید کر مسجد بنا دیا اور اس میں نمازیں پڑھی جانے لگیں۔ انہوں نے اس کی نئی تعمیر کی لیکن حُدود وہی رکھیں جو حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے گھر کی تھیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی البتہ حضرتِ ابوسفیان بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے گھر سے اس میں ایک دروازہ کھول دیا۔ ([2])

}لیکن آہ! اب اس رشکِ افلاک مُبَارَک مکان کے آثار تک مِٹا دئیے گئے ہیں، شیخ شریعت وشیخ طریقت، امیرِ اہلسنت حضرتِ علّامہ ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:  صد کروڑ بلکہ اربوں کھربوں افسوس! کہ اب اس کے نشان تک مِٹا دئیے گئے ہیں اور لوگوں کے چلنے کے لئے یہاں ہموار فرش بنا دیا گیا ہے۔ مَروہ کی پہاڑی کے قریب واقع باب المروہ سے نکل کر بائیں طرف (Left side) حسرت بھری نگاہوں سے صرف اس مکانِ عرش نشان کی فضاؤں کی بنگاہِ حسرت زیارت کر لیجئے۔ ([3])

ضروری نوٹ

یہ بہت ہی بابرکت مکان ہے جو ایک طویل عرصے تک پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤں سے منور ہوتا رہا، رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اولادِ اطہار کی وِلادت گاہ بنتا رہا اور بارہا اس مکانِ عالی شان میں حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سرورِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اقدس میں حاضِری دی۔ ایک روایت کے مُطَابق حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ([4]) نیز دنیا میں جنت کی بشارت پانے والے ایک اور جلیل القدر صحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ([5]) نے بھی اسی مکانِ عالی شان میں آ کر مُشَرَّف بَہ اِسْلام ہونے کی سعادت حاصِل کی۔ انہیں وُجُوہات کی بِنا پر عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ”مسجدِ حرام کے بعد مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں اس سے بڑھ کر افضل کوئی مقام نہیں۔“ ([6])

امام ابو ولید محمد بن عبد الله ازرقی اور امام ابو عبد الله محمد بن اسحاق فاکہی رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالیٰ نے اسے مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کے ان مقامات میں شمار کیا ہے جہاں نماز پڑھنا مستحب ہے اور امام ابوزکریا محی الدین، یحییٰ بن شرف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اُن جگہوں میں شمار کیا ہے جن کی زیارت کرنا مستحب ہے۔ ([7]) اس لئے اگر ہو سکے تو اس جگہ کی زیارت بھی کیجئے اور نماز بھی ادا کیجئے۔§

 



[1]   المرجع السابق.

[2]   اخبار مكة للفاكهى، ۴ / ۷.

[3]   رفیق المعتمرین، ص۱۲۰.

[4]   اسد الغابة، باب العين، عبد الله بن عثمان ابو بكر الصديق، اسلامه، ۳ / ۳۱۸.

[5]   تاريخ مدينة دمشق، ۳۹۱۱-عبد الرحمن بن عوف، ۳۵ / ۲۵۲.

[6]   تاريخ الخميس، ۲ / ۳۰۲. ورفیق الحرمین، ص۱۲۰.

[7]   دیکھئے: اخبار مكة للفاكهى، ۴ / ۷. و اخبار مكة للازرقى، ۲ / ۸۱۲. والايضاح فى مناسب الحج والعمرة، ص٤٠٤.

§ مگر آہ! اب صرف اس کی فضاؤں کی زیارت کی جا سکتی ہے اور کھلی زمین پر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔



Total Pages: 39

Go To