Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت بہترین اوصاف سے نوازا تھا جن کی بدولت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا جاہلیت کے دَورِ شر وفساد میں ہی طاہِرہ کے پاکیزہ لقب سے مشہور ہو چکی تھیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی اعلیٰ صفات اور اعزازات کا ذِکْر کرتے ہوئے آپ کی سہیلی حضرتِ سیِّدَتُنا نفیسہ بنتِ منیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں:  ”كَانَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ امْرَأَةً حَازِمَةً جَلْدَةً شَرِيفَةً مَعَ مَا أَرَادَ اللّٰهُ بِهَا مِنَ الْكَرَامَةِ وَالْخَيْرِ وَهِیَ يَوْمَئِذٍ أَوْسَطُ قُرَيْشٍ نَسَبًا وَّأَعْظَمُهُمْ شَرَفًا وَّأَكْثَرُهُمْ مَالًا یعنی حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا دُور اندیش، سلیقہ شعار، پریشانیوں اورمصیبتوں کے مقابلے میں بہت بلند حوصلہ وہمت رکھنے والی اور معزز خاتون تھیں، ساتھ ہی ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو عزت وشرف اور خیر وبھلائی سے بھی خوب نوازا تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قریش میں اعلیٰ نسب رکھنے والی، بہت ہی بلند رتبہ اور سب سے زیادہ مالدار خاتون تھیں۔“ ([1])

اوّلین اِزْدِواجی زندگی

دو۲ مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شادی ہو چکی تھی پہلے ابوہالہ بن زُرَارَہ تمیمی سے ہوئی اِس کے فوت ہو جانے کے بعد عتیق بن عابِد مخزومی سے،§ جب یہ بھی وفات پا گیا تو کئی رؤسائے قریش نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو شادی کے لئے پیغام دیا لیکن آپ نے انکار فرما دیا اور کسی کا بھی پیغام قبول نہ کیا چنانچہ اب اکیلے ہی اپنی اولاد کے ساتھ زندگی کے روز وشب گُزَار رہی تھیں۔ حضرتِ نفیسہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں:  ”كُلُّ قَوْمِهَا كَانَ حَرِيصًا عَلَى نِكَاحِهَا لَوْ قَدَرَ عَلَى ذٰلِكَ قَدْ طَلَبُوهَا وَبَذَلُوا لَهَا الأَمْوَالَ قوم کے تمام اَفراد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے نِکاح کی خواہش رکھتے تھے کہ کاش! وہ اس کی قدرت رکھتے، وہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو شادی کی درخواست کر چکے تھے اور اس مقصد کے لئے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو مال و زر بھی پیش کئے تھے۔“ ([2])

دیانت دار آدمی کی تلاش

حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت ہی زیادہ مال دار خاتون تھیں، دیگر قریشیوں کی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بھی تجارت کیا کرتی تھیں، عام لوگوں کی نسبت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا سامانِ تجارت بہت زیادہ ہوتا تھا۔ روایت میں ہے کہ صرف آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے مالِ تجارت سے لدے اُونٹ عام قریشیوں کے اُونٹوں کے برابر ہوتے تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا لوگوں کو مزدوربھی رکھتی تھیں اور مُضَارَبَت§ (Investment) کے طور پر بھی مال دیا کرتی تھیں۔ ([3]) چنانچہ ہر تاجر کی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بھی ایسے ذِی شُعُور، سمجھ دار، ہوشیار، باصلاحیت اور سلیقہ مند افراد کی ضرورت رہتی ہو گی جو امین اور دیانت دار بھی ہوں۔

پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہرت

ادھر سرکارِ نامدار، مکے مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُسْنِ اَخلاق،  راست بازی، ایمان



[1]   الطبقات الكبرىٰ، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة الخ، ۱ / ۱۰۵.

٭ بعض رِوایات میں ہے کہ پہلے عتیق سے ہوئی اس کی وفات کے بعد ابوہالہ سے۔ وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَم.  دیکھئے : [المعجم الكبير للطبرانى، ۹ / ۳۹۲، الحديث:۱۸۵۲۲]

[2]   الطبقات الكبرىٰ، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ، ۱ / ۱۰۵.

٭ یہ تجارت میں ایک قسم کی شرکت ہے کہ ایک جانب سے مال ہو اور ایک جانب سے کام، مال دینے والے کو رب المال اور کام کرنے والے کو مُضَارِب اور مالِک نے جو دیا اسے راس المال کہتے ہیں۔ [بہار شریعت، مضاربت کا بیان، حصہ۱۴، ۳ / ۱]

[3]   الطبقات الكبرىٰ، تسمية نساء المسلمات   الخ، ۴۰۹۶-ذكر خديجة بنت خويلد، ۸ / ۱۲



Total Pages: 39

Go To