Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

٭حضرتِ عمرو بن امیہ بن حارث بن اسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا زاد بھائی ”اُمَیَّہ“ کے بیٹے ہیں۔

٭حضرتِ یزید بن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے دوسرے چچا زاد بھائی ”اسود“ کے پوتے ہیں۔

رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قرابت داری

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ایک شرف یہ بھی حاصل ہے کہ سرورِ دوعالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے خاندانوں میں بہت قریبی رشتے داریاں پائی جاتی ہیں، چنانچہ

٭اُمِّ حبیب بنتِ اسد:  یہ امّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی پھوپھی ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی والِدہ ماجِدہ حضرتِ سیِّدَتُنا آمِنَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی نانی۔ ([1])

٭عوام بن خویلد:  اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے عَلَّاتی (باپ شریک) بھائی ہیں، ان کی ماں قبیلہ بنی مازن بن منصور میں سے تھی۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی جان حضرتِ سیِّدَتُنا صفیہ بنتِ عَبْدُ الْمُطَّلِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُمَا انہی کے نِکاح میں تھیں۔ اس رشتے سے یہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پھوپھا ہوئے اور حضرتِ صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا،  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زَوْجہ مطہرہ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا  کی بھابھی۔

٭حضرتِ ابوالعاص بن ربیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ:  اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھانجے اور رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے داماد ہیں۔ سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا  انہیں کے نِکاح میں تھیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا مکانِ رحمت نِشان

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! اس گھر کی عظمت کے کیا کہنے جہاں سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ گر ہوں، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا یہ مُبَارک مکان رشکِ آسمان مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کی پاک سرزمین میں جلوہ نُما تھا، آفتابِ رسالت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کم وبیش 25  برس تک§ حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ساتھ یہیں قیام پذیر رہے۔ مروی ہے  کہ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی تمام اولاد اسی مکانِ عالیشان میں ہوئیں، اسی میں حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے دنیا سے پردہ فرمایا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پردہ فرما جانے کے بعد پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرتِ مدینہ تک§  اسی مکانِ رحمت نشان کو اپنے جلوؤں سے منور فرماتے رہے۔ ([2])

 



[1]    نسب  قريش لمصعب زبير، الجزء السادس، ولد عبد العزى بن قصى، ص۲۰۶، ماخوذاً.

§ شعبِ ابی طالب کے تین سال نِکال کر کم وبیش 22برس۔

§ کم وبیش تین برس۔

[2]   اخبار مكة للازرقى، ۲ / ۸۱۲.



Total Pages: 39

Go To