Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

ابوجہل کی پِٹائی

مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرتِ سیِّدُنا حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ایک غلام کے ساتھ کچھ گیہوں لئے اپنی پھوپھی حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس جا رہے تھے اور حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا شعب ابی طالب میں رسولِ کریم ورحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھیں کہ راستے میں ابوجہل سے ملاقات ہو گئی۔ وہ گیہوں کے ساتھ چمٹ گیا اور کہنے لگا:  تم یہ اناج بنی ہاشِم کے پاس لے جا رہے ہو؟  بخدا! تم اس وقت تک یہاں سے نہیں ہٹ سکتے جب تک کہ میں تمہیں مکہ میں رسوا نہ کر دوں۔ اتنے میں ابوالبختری بن ہاشِم وہاں پہنچے، پوچھا:  کیا مُعَاملہ ہے؟  ابوجہل نے کہا:  یہ بنی ہاشم کے پاس اناج لے جا رہا ہے۔ ابوالبختری نے کہا:  یہ اناج اس کی پھوپھی کا ہے جو اِس کے پاس پڑا ہوا تھا، وہ اُس نے منگوا لیا ہے تو کیا تم اُس کا اناج اُس تک پہنچنے سے روکتے ہو...!! اس کا راستہ چھوڑ دو۔ ابوجہل نے انکار کیا۔ اس پر ابوالبختری نے اُونٹ کے جبڑے کی ہڈی پکڑ کر ابوجہل کو مارا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا اور پھر خوب پاؤں سے روندا۔ ([1])

واضح رہے کہ حضرتِ حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور ابوالبختری دونوں حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھتیجے ہیں۔ حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، اُمُّ المؤمنین حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھائی ”حزام“ کے بیٹے ہیں اور ابوالبختری آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا زاد بھائی ”ہاشم“ کے بیٹے ہیں۔

ظالمانہ مُعَاہدے کا خاتمہ

بنی ہاشم کو شعبِ ابی طالب میں محصور ہوئے جب تین برس ([2]) کا عرصہ گزر چکا تو قریش کی جانِب سے ہی اس ظالمانہ مُعَاہدے کو ختم کرنے کی تحریک ہوئی، اس سلسلے میں ہشام بن عمرو پیش پیش تھے، انہوں نے سب سے پہلے زُہَیر بن ابو اُمَیَّہ، مطعم بن عدی اور حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھتیجے حضرتِ حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور ابوالبختری سے بات کی۔ سب نے اس کی رائے سے اتفاق کیا اور پھر یہ حضرات بنی ہاشم کی حمایت میں ظالمانہ مُعَاہدہ ختم کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ([3])

شرفِ اسلام

دیگر معاشی و مُعَاشرتی اور خاندانی اعزازات وکرامات کے علاوہ قبولِ اسلام  میں بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے خاندان کے افراد نے سبقت کی اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پا کر دونوں جہان کی بھلائیوں کے حق دار قرار پائے۔ اختصار کے پیش نظر یہاں اُن میں سے چند کے صرف نام ذکر کئے جاتے ہیں جیسا کہ

٭دنیا میں ہی جنت کی بشارت پانے والے دس مشہور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ایک ”حضرتِ سیِّدُنا زُبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ۔“ یہ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھتیجے ہیں۔

٭حضرتِ اسود بن نوفل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، یہ بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھتیجے ہیں۔

٭حضرتِ حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ، یہ بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے بھتیجے ہیں۔

 



[1]   سيرت ابن هشام، خبر الصحيفة، ۲ / ۵، ملتقطاً.

[2]   الطبقات الكبرىٰ، ذكر حصر قريش   الخ، ۱ / ۱۶۳.

[3]   سيرت ابن هشام، حديث نقض صحيفة قريش، ص۱۹، ملخصاً.



Total Pages: 39

Go To