Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

القابات

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے القابات بہت ہیں جن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ

٭سب سے مشہور لقب ”الکبریٰ“ ہے، یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نام کے ساتھ بولا جاتا ہے اور اس کثرت سے بولا جاتا ہے کہ گویا نام ہی کا حصہ ہے۔

٭ایک اور مشہور لقب ”طاھِرہ“ ہے۔ مروی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو طاہرہ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ ([1])

٭ایک لقب”سَیِّدَۃُ قُرَیْش“ بھی ہے کہ بعض روایات کے مطابق زمانۂ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے بولا جاتا تھا۔ ([2])

٭ایک لقب ”صِدِّیْقَہ“ ہے۔ روایت میں ہے کہ پیارے پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ”ھٰذِہٖ صِدِّیْقَۃُ اُمَّتِیْ یعنی یہ میری اُمَّت کی صِدِّیقہ ہیں۔“ ([3])

خاندانی اور قبائلی شرافتیں

اس حوالے سے بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بہت بلند مرتبہ حاصل تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا عرب کے سب سے معزز  اور مکرم قبیلے قریش کی چشم وچراغ تھیں۔ آگے چل کر قریش بہت شاخوں میں بٹ جاتے ہیں جن میں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا تعلق بنو اَسَد بن عَبْدُ الْعُزّٰی سے تھا۔

دَارُ النَّدْوَہ اور منصبِ مُشَاورت

بنو اَسَد“ قریش کے ان ممتاز خاندانوں میں سے ہے جن کے پاس قومی اور ملکی لحاظ سے بڑے بڑے عہدے تھے، چنانچہ حضرتِ قُصَیّ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تعمیر کردہ مشہور عمارت ”دَارُ النَّدْوَہ“ جس میں قبیلہ قریش کے لوگ باہمی مشورے کے لئے جمع ہوتے تھے، ([4]) عہدِ رسالت میں اسی خاندان کے ایک معزز شخص حضرتِ حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کی ملکیت میں تھی۔ ([5])

”مشورہ“ کا منصب بھی اسی خاندان کے ایک نہایت معزز شخص حضرتِ یزید بن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے پاس تھا، مروی ہے کہ جب قریش کسی بات پر متفق ہو جاتے تو اسے حضرتِ یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے سامنے پیش کرتے، اگر یہ راضی ہوتے تو ٹھیک ورنہ اُس پر عمل سے باز رہتے۔ ([6])

شِعْبِ ابی طالِب

پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اعلانِ نبوت کے ساتویں سال جب کُفّارِ مکہ نے بنی ہاشِم کا مُقَاطعہ (Boycott) کیا، ان سے کھانے پینے کی چیزیں روک دیں، میل جول، سلام کلام وغیرہ ختم کر دیا اور بنی ہاشم شِعْبِ ابی طالب میں محصور ہو گئے تو وہاں غلہ وغیرہ اشیائے خورد ونوش پہنچانے میں حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے عزیز واقارب نے بہت اہم کردار ادا کیا، چنانچہ

 



[1]    المعجم الكبير للطبرانى، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ۹ / ۳۹۱، الحديث:۱۸۵۲۲

[2]   السيرة الحلبية، باب تزوجه صلى الله عليه وسلم خديجة   الخ، ۱ / ۱۹۹.

[3]   تاريخ دمشق، تاريخ دمشق، حرف الميم،  ۹۴۲۷-مريم بنت عمران، ۷۰ / ۱۱۸.

[4]   معجم البلدان، باب الدال والالف وما يليها، ۲ / ۴۲۳.

[5]   الاستيعاب، باب حكيم، ٥٣٥-حكيم بن حزام، ۱ / ۳۶۲.

[6]   اسد الغابة، باب الياء والزاء، ۵۵۵۲-يزيد بن زمعة، ۵ / ۴۵۳.



Total Pages: 39

Go To