Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

وہ شریکِ حَیَات شہِ لامکاں

سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں

حق   گزارِ  رفاقت   پہ   لاکھوں   سلام ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ایک انمول مَدَنی پُھول

پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی جاں نِثاری کے بارے میں پڑھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اتنے خطرناک اوقات میں جس عزم و استقلال کے ساتھ  خطرات و مصائِب کا سینہ سِپَر ہو کر سامنا کیا یہ چیز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو دیگر اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ میں ایک ممتاز مقام پر فائز کر دیتی ہے۔ نیز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی اس حَیَاتِ طَیِّبَہ سے ہمیں ایک انمول مَدَنی پُھول بھی چننے کو ملتا ہے وہ یہ کہ خواہ کیسے ہی کٹھن حالات ہو، کیسی ہی مشکلات کا سامنا ہو، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت وفرمانبرداری سے رُوگردانی ہرگزنہیں کرنی چاہئے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے  لائے ہوئے پیارے دین ”اِسلام“ کی خاطِر مالی وجانی کسی  قسم کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔

؏ تیرے نام پر سر کو قربان کر کے

تیرے سر سے صدقہ اتارا کروں میں

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں

تیرے  نام  پر  سب  کو  وارا  کروں  میں ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

٭٭٭٭٭٭

جنت سے محروم

حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے مروی ہے، رسولِ اکرم، نورِ مجسم، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:  ”لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ یعنی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ (صحيح البخارى، كتاب الادب، باب ما يكره من النميمة، ص۱۵۰۸، الحديث: ۶۰۶۵)

تَعَارُفِ خدیجۃُ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا

پیاری پیاری اسلامی بہنو! ابھی آپ نے جس مُبارَک ہستی کی پاکیزہ حَیَات کے چند خوش نُما اور دل آویز لمحات ملاحظہ کئے اور ان سے پُھوٹنے والی خوشبوؤں سے اپنے ایمان کی کھیتی کو تازگی بخشی، آئیے! ان کےنام ونسب اور خاندان کے بارے میں بھی چند ابتدائی



[1]    بہارِ عقیدت، ص۱۱.

[2]   سامانِ بخشش، ص۱۰۲.



Total Pages: 39

Go To