Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

وَسَلَّم کے سب سے پہلے ان کے پاس آنے میں) منشاءِ الٰہی یہ تھا  کہ پہلے ان دونوں سے حُضُورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی نبوت کی گواہی دِلوائی جائے پھر تبلیغ اِسْلام کا حکم حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو دیا جاوے اس لئے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پہلے ان دونوں کے پاس تشریف لے گئے۔ یہ تشریف لے جانا اپنے جاننے کے لئےنہ تھا بلکہ لوگوں کو بتانے سمجھانے کے لئے تھا۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ظُہُورِ نبوت کے بعد کے حالات

جب سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ربّ تعالیٰ کے حکم سے اِعْلانِ نبوت فرماتے ہیں اور خَلْقِ خُدا کو صرف اس ایک معبودِ حقیقی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی عِبادت کی طرف بلاتے ہیں جو سب کا خالِق و مالِک ہے، نہ اس کی کوئی اَوْلاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، وہ سب کا پالنے  والا ہے، سب اُسی سے رِزْق پاتے اور اُسی کے دَرْ سے حاجتیں بَر لاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے حق کی پکار پر لبیک کہا جاتا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں، راہ میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں،تَنِ نازنین پر پتھر برسائے جاتے ہیں، اِتِّہام و دُشْنام طَرازی کے تیروں کی بارِش کر دی جاتی ہے اور کل تک کا سب کی آنکھوں کا تارا آج سب سے بڑا دشمن قرار دے دیا جاتا  ہے۔

قدم قدم حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ

ایسے نازک، خوفناک اور کٹھن مرحلے ماور کٹھن ر ی آنکھوں کا تارا تھا آج دیبرسائےالمبارک کے مہینے میں پہلی وحی نازل ہوئی۔یں جو ہستیاں حق کی پکار پر لبیک کہتی ہوئیں سب سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوتِ حق کو قبول کرنے کی سعادت سے سرفراز ہوئیں اور  ”یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اے ایمان والو!“کی پکار کی سب سے پہلے حق دار قرار پائیں، ان میں ایک نمایاں نام مجسمۂ حُسْنِ اَخلاق، پاکیزہ سیرت و بلند کِردار، فہم وفراست اور عقل ودانش سے سرشار، جُود وسخا کی پیکر، صِدْق و وفا کی خُوگر حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی ذات تھی جو پروانوں کی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نِثار ہو رہی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سب سے پہلے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لائیں، جو کچھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی جانب سے لے کر آئے اس کی تصدیق کی اور ہر مشكل سے مشکل وَقْت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ دیا۔حضرتِ سیِّدنا علّامہ محمد بن اسحاق مَدَنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ سیّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی کُفّار کی جانب سے اپنا ردّ اور تکذیب وغیرہ کوئی ناپسندیدہ بات سن كر غمگین ہو جاتے اس کے بعد حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس تشریف لاتے تو اِن کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وہ رنج وغم کی کیفیت دُور فرما دیتا۔“ ([2])

؏ وہ انیسِ غم مُوْنِسِ بے کساں

وہ سُکُونِ دل مالکِ اِنس و جاں

 



[1]    مراۃ المناجیح، وحی کی ابتدا، پہلی فصل، ۷ / ۹۸.

[2]    السيرة النبوية لابن اسحاق، تحديد ليلة القدر، ۱ / ۱۷۶.



Total Pages: 39

Go To