Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پیاری پیاری اسلامی بہنو! سرکارِ رِسالت  مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اندیشہ ظاہِر فرمانے پر اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تسلی و اطمینان دِلاتے ہوئے جو کچھ عرض کیا یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی حکمت ودانائی، عِلْم اور کمالِ فِراست کی واضح دلیل ہے۔ اس سے ظاہِر ہوتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِعْلان نبوت فرمانے سے پہلے ہی اپنی کمالِ فراست سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نبی ہونا جان لیا تھا اور اسی وجہ سے آپ نے عَرْض کیا تھا:  ”بخدا!  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کبھی آپ کو رُسوا نہ کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے، محتاجوں کے  لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہِ حق میں پیش آنے والے مصائب برداشت کرتے ہیں۔“ مفسر شہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے اس فرمان کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:  مقصد یہ ہے کہ آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ان علامتوں کی وجہ سے بحکم توریت آخِری نبی ہیں، آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا سورج بلند ہو گا (اور) آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا دین غالِب ہو گا۔ (خیال رہے کہ) حضرتِ خدیجہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) توریت کی عالمہ تھیں اور عُلَمائے (بنی) اسرائیل سے بھی آپ نے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی یہ علامات سنی تھیں اس وجہ سے تو حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے نِکاح کیا۔ ([1])

نیز اس رِوایَت سے اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی یہ فضیلت بھی معلوم ہوئی کہ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظُہُورِ نبوت کی سب سے پہلی خبر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو ہی پہنچی۔  

بعض الفاظِ حدیث کی وضاحت

پیاری پیاری اسلامی بہنو! سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پہلی وحی نازِل ہونے کے موقع پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلبِ اقدس کے کانپنے کا ذکر گزرا، ایسا کیوں ہوا اور وحی نازِل ہونے کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے پہلے حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور ان کے بعد وَرَقہ بن نَوْفل کے پاس تشریف کیوں لے گئے، اس میں کیا حکمت تھی؟  اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفسر شہیر، مُحَدِّثِ جلیل حضرتِ علّامہ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان تحریر فرماتے ہیں:  یہ دل کا کانپنا اس فیض ربّانی کا اثر تھا جو آج (یعنی پہلی وحی نازِل ہونے کے روز) عطا  ہوا تھا۔ یہ تَوَجُّہ اگر پہاڑوں پر ڈالی جاتی تو پُھوٹ جاتا یہ تو حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا قوت والا دل ہے جو ٹھہرا رہا۔ ([2])

؏   دل سمجھ سے وراء ہے مگر یوں کہوں

غنچۂ   راز   وحدت   پہ   لاکھوں   سلام ([3])

مزید فرماتے ہیں:  بی بی خدیجہ اور وَرَقہ، مکہ بلکہ عرب میں بڑے معزز عُلَما میں سے مانے جاتے تھے، (حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



[1]    مراٰۃ المناجیح، وحی کی ابتداء، پہلی فصل، ۸ / ۹۷.

[2]    المرجع السابق، ص۹۶، ملتقطاً.

[3]   حدائِقِ بخشش، حصہ دُوُم، ص۳۰۴.



Total Pages: 39

Go To