Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

ہو جاتا پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خلوت پسند (تنہائی پسند) ہو گئے اور غارِ حرا میں خلوت فرمانے لگے، کاشانۂ اقدس (مبارک وپاکیزہ گھر) لوٹنے سے پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں کئی کئی راتیں ٹھہر کر عِبادت کرتے اور اس کے لئے کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لے جاتے تھے۔ پھر حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس تشریف لاتے اور اتنی ہی چیزیں پھر لے جاتے حتی کہ وہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پہلی وحی نازِل ہوئی چنانچہ ایک دن فِرِشتے نے حاضِر ہو کر کہا:  اِقْرَاْ پڑھئے۔ فرمایا:  ”مَا اَنَا بِقَارِیءٍ میں نہیں پڑھنے والا۔ فِرِشتے نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پکڑا اور گلے لگا کر خوب زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا:  اِقْرَاْ پڑھئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر وہی فرمایا کہ  میں نہیں پڑھنے والا۔ اس نے دوبارہ گلے لگا کر خوب زور سے دبایا اور پھر چھوڑ کر کہا:  اِقْرَاْ پڑھئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر وہی جواب دیا کہ  میں نہیں پڑھنے والا۔ اس نے تیسری بار گلے لگا کر خوب زور سے دبایا ، پھر چھوڑ دیا اور کہا:  

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ (۱) خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ (۲) اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ (۳) (پ۳۰،العلق: ۱-۳)

ترجمهٔ کنزالایمان:  پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک (بوند) سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا ربّ ہی سب سے بڑا کریم۔

تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وحی لے کر اس حالت میں واپس ہوئے کہ قلبِ اقدس کانپ رہا تھا، حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس پہنچ کر فرمایا:  مجھے چادر اوڑھا دو۔ انہوں نے آپ کو چادر اوڑھا دی حتی کہ جب قلبِ اقدس سے رعب کی کیفیت جاتی رہی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو سارا واقعہ بتاتے ہوئے فرمایا:  مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے کہا:  ایسا ہرگز نہ ہو گا، بخدا!  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو رُسوا نہ کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے، محتاجوں کے  لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہِ حق میں مصائب برداشت کرتے ہیں۔

وَرَقہ بن نوفل کے پاس

اس کے بعد حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وَرَقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چچا زاد بھائی تھے۔ وہ زمانۂ جاہلیت میں نصرانی (عیسائی) ہو گئے تھے، عِبْرانی زبان میں کتابت کیا کرتے تھے اور جتنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو منظور ہوتا انجیل کو عِبْرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، اس وقت عمر رسیدہ اور بینائی سے محروم تھے۔ ان سے حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے کہا:  اے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنئے۔ وَرَقہ بن نوفل نے کہا:  اے بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟  رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو دیکھا تھا اِنہیں بتایا۔ اس پر وَرَقہ نے کہا:  یہ وہی فِرِشتہ ہے جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اتارا تھا، اے کاش! ان دنوں میں جوان ہوتا، اے کاش! اُس وقت میں زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نِکالے گی۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا:  کیا میری قوم مجھے نِکالے گی؟  کہا:  ہاں! جب بھی کوئی شخص یہ چیز لے کر آیا جیسی آپ لائے ہیں تو اس سے دشمنی کی گئی۔ اگر مجھے آپ کا وہ زمانہ نصیب ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بھرپور مدد کروں گا۔([1])

 



[1]    صحيح البخاری، كتاب بدء الوحی، باب كيف بدء الوحىالخ، الحديث:۳، ص۶۵.



Total Pages: 39

Go To