Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

عقیدت اور ایسی توفیق سعید عطا فرمائے  کہ ہم اپنا تن من دھن سب کچھ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان کرنے والیاں بن جائیں، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعلیمات کو عَمَلی طور پر اَپنائیں، دِیْنِ اِسلام کی خوب خوب خدمت کرنے کی سعادت پائیں اور اس راہ میں آنے والی کسی بھی مشکل کو خاطِر میں نہ لائیں ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم.

کروں تیرے نام پہ جاں فِدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فِدا

دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

٭٭٭٭٭٭

اِبتِداءِ اِسلام میں

سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا کِردار

تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آفاقِ عالَم کو اپنے جلوؤں سے چمکاتے اور خوشبوؤں سے مہکاتے عرب کے ریگزاروں وکوہساروں میں مُبارَک حَیَات کے لمحات گزارتے رہے حتی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِعْلانِ نبوت کا زمانہ قریب آ گیا، ظہورِ نبوت کے قریب خلوت نشینی کی محبت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے قلبِ اقدس میں ڈال دی گئی تھی لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کچھ تھوڑا بہت طَعَام (کھانا) اپنے ساتھ لے جا کر مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقِع جبل نور کے غارِ حرا میں کئی کئی روز تک خلوت نشین  ہو جاتے اور ذِکْر وفِکْر میں مشغول رہتے۔ شب وروز اسی طرح بسر ہوتے گئے کہ عامُ الفیل کے 41ویں سال، جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمر مبارک 40برس ہو چکی تھی ربیع الاوّل یا رَمَضَانُ الْمُبَارَک کے مہینے میں پہلی وحی نازِل ہوئی۔ ([2])

بےمثال رفیقۂ حیات

اس موقعے پر حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے مثالی کِردار ادا کیا، رسولِ نامدار، شفیع روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آنے سے لے کرآخری دم تک رات دن قدم بہ قدم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساتھ دیا۔ غارِ حرا میں پہلی وحی نازِل ہونے کے بعد جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قلبِ اقدس کانپ رہا تھا  تب حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوب حوصلہ افزائی کی،  چنانچہ اس کا تفصیلی واقعہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے مروی بخاری شریف کی حدیث میں کچھ اس طرح مذکور ہے:

پہلی وحی کا نُزُول

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ شروع شروع میں جس وحی کی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ابتدا ہوئی وہ سوتے میں سچے خواب تھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو خواب بھی دیکھتے وہ صبح کے ظُہُور کی طرح ظاہِر



[1]    حدائق بخشش، حصہ اوّل، ص ۱۰۹.

[2]    مواهب اللدنية، المقصد الاول، دقائق حقائق بعثته صلى الله عليه وسلم، ۱ / ۱۰۳، ملتقطًا.



Total Pages: 39

Go To