Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے باتیں فرمائیں، اس سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرمائی۔ ابوطالِب نے اس شادی پر بڑی مَسَرَّت کا اِظہار کیا اور کہا:  ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْکَرْبَ وَ رَفَعَ عَنَّا الْھُمُوْمَ سب خوبیاں اس ذات کے لئے جس نے ہم سے مصیبتیں دُور فرمائیں اور ہم سے غموں کو اٹھایا ۔“ ([1])

اس طرح شادی کی یہ پُرسعید تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مقامِ غور...!!

پیاری پیاری اسلامی بہنو! اے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا دم بھرنے والیو! غور کرو کہ دوجہاں کے تاجور، محبوبِ ربِّ داور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِکاحِ مُبارَک کی یہ عظیمُ الشَّان و عدیمُ الْمِثَال تقریب کس سادَگی کے ساتھ انجام پذیر ہوئی، اس میں ہمارے لئے شادی ونِکاح وغیرہ خوشی کے مَوَاقِع پر سادَگی اَپنانے کی عَمَلی ترغیب ہے، اے کاش! ہم گناہوں بھری اور اَخلاقی قدروں سے گری ہوئی رُسُوم سے اجتناب کرتے ہوئے اور شبِ اسریٰ کے دولہا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سادَگی کے  ساتھ تقریبات کا اِنْعِقَاد کیا کریں۔

؏   شادیوں میں مت گُنَہ نادان کر

خانہ بربادی کا مت سامان کر

سادَگی شادی میں ہو سادہ جہیز

جیسا بی بی فاطمہ کا تھا جہیز

چھوڑ دے سارے غَلَط رَسم و رواج

سنَّتوں   پہ   چلنے   کا   کر   عَہْد  آج ([2])

نیز اس سے سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم شان بھی معلوم ہوئی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پیغمبرانہ اَخلاق اور احسن عادات کی بدولت اِعْلانِ نبوت سے پہلے ہی مشہور ہو چکے تھے، ہر خاص وعام آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دلدادہ تھا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِنہیں اَخلاق سے متاثر ہو کر سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا، جنہوں نے بڑے بڑے سردارانِ عرب  کے پیغامات کو ٹھکرا دیا تھا، خود آپ صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیغامِ نِکاح بھیجا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاطِر شاہانہ زندگی کو ٹھکرا دیا اور ہر کٹھن سے کٹھن مرحلے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ساتھ دیا۔

دُعا

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے قدموں کی دُھول کے صدقے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   ہمیں بھی ایسا  جذبہ



[1]    المرجع السابق، ص۳۸۹.

[2]    وسائل بخشش، ص۶۷۰.



Total Pages: 39

Go To