Book Name:Faizan e Khadija tul Kubra

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا

دُرُود شریف کی فضیلت

امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے رِوایَت ہے، فرماتے ہیں:  ”اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْءٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ بے شک دُعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہری رہتی ہے، اس میں سے کوئی چیز اُوپر کی طرف نہیں جاتی جب تک تم اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرود نہ پڑھ لو۔“ ([1])

؏   کعبے کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروروں دُرود

طیبہ  کے شمس الضحی تم  پہ  کروروں دُرود ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                 صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سفرِ شام اور واقعۂ نِکاح

سرزمین مکہ میں آباد قبیلہ قریش کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تجارت پر تھا کیونکہ یہ پوری وادی سنگلاخ وسخت پتھریلی چٹانوں پر مشتمل تھی جس کے چاروں طرف دُور دُور تک بےآب وگیاہ اور لق ودَق صحرا پھیلے ہوئے تھے یہی وجہ تھی کہ یہاں زراعت اور کھیتی باڑی کے امکانات بالکل ختم ہو کر رہ گئے تھے۔ قریش کے افراد سال میں دو۲ بار تجارتی سفر اختیار کرتے تھے، سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف۔ پارہ 30، سورۂ قریش کی آیت نمبر ایک۱ اور دو۲ میں اللہ رَبُّ الْعِزّت کا فرمان ہے:  

لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ (۱) اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ (۲) (پ۳۰، قریش: ۱،۲)

 ترجمهٔ کنزالایمان: اس لیے کہ قریش کو میل دِلایا۔ اُن کے جاڑے (سردی) اور گرمی دونوں کے کُوچ میں میل دِلایا (رغبت دِلائی) ۔

صَدْرُ الْاَفاضِل حضرتِ علّامہ مفتی سیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ان آیات کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:  یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بےشمار ہیں ان میں سے ایک نعمتِ ظاہِرہ یہ ہے کہ اُس نے قریش کو ہر سال میں دو۲ سفروں کی طرف رغبت دِلائی، اِن کی محبت اُن میں ڈالی، جاڑے (سردی) کے موسم میں یمن کا سفر اور گرمی کے موسم میں شام کا کہ قریش تجارت کے لئے ان موسموں میں یہ سفر کرتے تھےاور ہر جگہ کے لوگ انہیں اہل حرم کہتے تھے اور ان کی عزت و حرمت کرتے تھے، یہ امن کے ساتھ تجارتیں کرتے اور فائدے اُٹھاتے اور مکہ مکرمہ میں اِقامت کرنے کے لئے سرمایہ بہم پہنچاتے جہاں نہ کھیتی ہے نہ اور اسبابِ معاش۔ ([3])

قریش کی ایک باکِردار خاتون

حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قبیلہ قریش کی ایک بہت ہی باہمت، بلند حوصلہ اور زِیْرَک (عقل مند) خاتون تھیں،



[1]   سنن الترمذى، ابواب الوتر، باب   فى فضل الصلاة   الخ، ص۱۴۵، الحديث:۴۸۴.

[2]   حدائِقِ بخشش، حصہ دُوُم، ص۲۶۴.

[3]    خزائن العرفان، پ ۳۰،  سورۂ قریش، تحت الآیۃ ۲، ص ۱۱۲۱.



Total Pages: 39

Go To