Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

باب:  5

 

 

 

 

 

سنتیں اور آداب

 

 

 

 

اس باب میں آپ پڑھیں گے:

علمِ دین سیکھنے سکھانے کے فضائل، قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے و سیکھنے کے فضائل،

مختلف کاموں سے پہلے اچھی اچھی نیتوں کا بیان مثلاً کھانا کھانے، پانی و چائے پینے،

خوشبو لگانے کی نیتوں کے علاوہ مختلف کاموں کی سنتیں اور آداب

 

علمِ دین

علم ایک ایسی نایاب دولت ہے جو روپے پیسے سے حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ تو محض اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا ایک خاص کرم ہے وہ جسے چاہے اس دولت سے نواز دے۔

علم دین حاصل کرنے کے بے شمار فضائل وبرکات قرآن وحدیث میں جابجا وارد ہوئے ہیں ۔ چنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:  

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیْنِ (پ ۱۱، التوبۃ: ۱۲۲)

ترجمۂ کنز الایمان:  تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں ۔

”علم نایاب دولت ہے“ کے چودہ حروف کی نسبت سے  علم کے متعلق 14فرامینِ        مُصطَفٰے

پیارے مدنی منو!  علم دین سیکھنے والے سعادت مندوں کے کیا کہنے!  ان پر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لطف وکرم کی بارش رحمت بن کر چھما چھم برستی ہے۔ اس بات کا اندازہ درج ذیل روایات کو پڑھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

(1) … جو شخص حصولِ علم کے لیے کسی راستہ پر چلے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔)[1](

(2)… جو شخص طلب علم کے لئے گھر سے نکلا تو جب تک واپس نہ ہوا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی راہ میں ہے۔ )[2](

(3)اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  جس سے بھلائی کا ارادہ فرما تا ہے اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما دیتاہے۔  )[3](

 



[1]    مسلم،  کتاب الذکر والدعاء،   باب فضل الاجتماع    الخ،   ص۱۴۴۷،   حدیث:۳۸ - (۲۶۹۹)

[2]    ترمذی،  کتاب العلم،   باب فضل طلب العلم،   ۴ / ۲۹۴،   حدیث:۲۶۵۶

[3]    المرجع السابق،   باب اذا اراد اللہ    الخ،   حدیث:۲۶۵۴



Total Pages: 146

Go To