Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

اِہانت  :                    بے باک فجاریاکفارسے جوبات ان کے خلاف ظاہرہواس کواہانت کہتے ہیں ۔

بِدعت :                    وہ اِعْتِقَادیا وہ اَعمال جو کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانۂ حیاتِ ظاہری میں نہ ہوں بعد میں ایجاد ہوئے۔

بدعت سَیِّئَہ :     جوبدعت اسلام کے خلاف ہو یاکسی سنت کومٹانے والی ہووہ بدعت سیئہ ہے۔

بدعت مکروہَہ :            وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے اگرسنت غیرمؤکدہ چھوٹی تویہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے اوراگرسنت مؤکدہ چھوٹی تویہ بدعت مکروہ تحریمی ہے۔

بدعت حَرام :      وہ نیاکام جس سے کوئی واجب چھوٹ جائے، یعنی واجب کومٹانے والی ہو۔

بدعت مستحبہ :          وہ نیاکام جو شریعت میں منع نہ ہو اور اس کو عام مسلمان کارِ ثواب جانتے ہوں یا کوئی شخص اس کو نیت خیرسے کرے، جیسے محفل میلاد وغیرہ۔

بدعت جائِز (مُبَاح):   ہروہ نیاکام جوشریعت میں منع نہ ہواوربغیرکسی نیتِ خیرکے کیاجائے جیسے مختلف قسم کے کھانے کھاناوغیرہ۔

بدعت واجب :    وہ نیاکام جوشرعاًمنع نہ ہواور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہو،جیسے کہ قرآن کے اعراب اوردینی مدارس اورعلمِ نحو وغیرہ پڑھنا۔

تَقلید :   کسی کے قول وفعل کواپنے اوپرلازم شرعی جاننا یہ سمجھ کرکہ اس کاکلام اوراس کاکام ہمارے لیے حجت ہے کیونکہ یہ شرعی محقق ہے،جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کاقول وفعل اپنے لیے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظرنہیں کرتے۔

تَقلید کی مختلف صورتیں :  

                                    شرعی مسائل تین طرح کے ہیں :  (۱)عقائد: ان میں کسی کی تقلید جائزنہیں (۲)وہ احکام جوصراحۃً قرآن پاک یا حدیث شریف سے ثابت ہوں اجتہاد کوان میں دخل نہیں ، ان میں بھی کسی کی تقلید جائز نہیں جیسے پانچ نمازیں ، نماز کی رکعتیں ، تیس روزے وغیرہ (۳) وہ احکام جو قرآن پاک یا حدیث شریف سے استنباط و اجتہاد کرکے نکالے جائیں ، ان میں غیرمجتہد پرتقلید کرنا واجب ہے۔

٭…٭…٭

فرض :         جودلیل قطعی )[1](سے ثابت ہویعنی ایسی دلیل جس میں کوئی شُبہ نہ ہو۔

فرض کفایہ :   وہ ہوتاہے جوکچھ لوگوں کے ادا کرنے سے سب کی جانب سے ادا ہو جاتا ہے اور کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گناہ گار ہوتے ہیں ۔ جیسے نمازِ جنازہ وغیرہ۔

واجب :       وہ جس کی ضرورت دلیل ظنی)[2](سے ثابت ہو۔

سنت مؤکدہ :    وہ ہے جس کوحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ کیا ہوالبتہ بیانِ جواز کے لیے کبھی ترک بھی کیاہو۔

سنّتِ غیر مؤکدہ :     وہ عمل جس پر حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مداومت (ہمیشگی) نہیں فرمائی اور نہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی لیکن شریعت نے اس کے ترک کو ناپسند جانا ہو اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ عمل کبھی کیا ہو۔

مُستحب :                         وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگرترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔

مُباح :                                  وہ جس کا کرنا اور نہ کرنا یکساں ہو۔

حرام قطعی :     جس کی ممانعت دلیل قطعی سے لزوماً ثابت ہو،یہ فرض کا مُقابِل ہے۔

مکروہ تحریمی :        جس کی ممانعت دلیل ظنی سے لزوماً ثابت ہو،یہ واجب کا مُقابِل ہے۔

اِساءَت :                   وہ ممنوع شرعی جس کی ممانعت کی دلیل حرام اورمکروہ تحریمی جیسی تو نہیں مگر اس کاکرنا برا ہے،یہ سنّتِ مؤکدہ کے مُقابِل ہے۔

مکروہِ تنزیھی:        وہ عمل جسے شریعت ناپسندرکھے مگرعمل پرعذاب کی وعیدنہ ہو۔یہ سنّتِ غیر مؤ کدہ کے مُقابِل ہے۔

خلافِ اَولٰی :                    وہ عمل جس کانہ کرنابہترہو۔یہ مستحب کا مُقابِل ہے۔

٭…٭…٭

 

 



[1]    دلیل قطعی وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے ہو۔  (فتاوی فقیہ ملت،   ۱ / ۲۰۴)

[2]    دلیل ظنی  وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے نہ ہو،  بلکہ احادیث احاد یامحض اقوال ائمہ سے ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت ،  ج۱،  ص۲۰۴)



Total Pages: 146

Go To