Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

سوال …:                     تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کی ترتیب کیا ہے؟

جواب …:                       گیارہ اور بارہ تاریخ کو زوالِ آفتاب (سورج ڈھلنے) کے بعد پہلے چھوٹے شیطان کو پھر درمیان والے کو اور آخرمیں بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔

٭…٭…٭

قربانی

قربانی سے مراد

سوال …:                   قربانی سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                     قربانی سے مراد ہے:  مخصوص جانور کو مخصوص دن میں (یعنی  10،11اور 12 ذوالحجہ کو) قربِ خداوندی کے حصول کی نیت سے ذبح کرنا۔ کبھی اُس جانور کو بھی اُضْحِیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے )[1](

قربانی کی شرعی حیثیت

سوال …:                  قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب …:                                     قربانی ہر اُس بالغ مقیم مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے جو مالکِ نصاب ہو۔ )[2](

قربانی کا جانور

سوال …:                   قربانی کے جانور کی عمر کتنی ہونی چاہئے؟

جواب …:                    اُونٹ پانچ سال کا، گائے بھینس دو سال کی، بکرا (بکری، دنبہ، دنبی اور بھیڑ وغیرہ سب) ایک سال کا۔ اس

سے کم عمر ہو تو قربانی جائز نہیں ، زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ مہینے کا بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔  )[3](

سوال …:                     قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے؟

جواب …:                                          قربانی کا جانور بے عیب ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ”چار قسم کے جانور قربانی کے لیے درست نہیں :  )1(کانا :  جس کا کانا پن ظاہر ہو (2)بیمار:  جس کی بیماری ظاہر ہو (3)لنگڑا:  جس کا لنگ ظاہرہو اور)4(… ایسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔“ )[4]( البتہ!  اگر تھوڑا سا عیب ہو (مثلاً کان چرا ہوا ہو یا کان میں سوراخ ہو) تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہو گی اور اگر عیب زیادہ ہو تو بالکل نہیں ہو گی۔)[5](

قربانی کا طریقہ

سوال …:                    جانور ذبح کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب …:                                          جانور ذبح کرنے میں سنت یہ ہے کہ ذبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں ، ہمارے علاقہ (یعنی پاک و ہند) میں قبلہ مغرب میں ہے، اس لئے سرِ ذبیحہ (جانور کا سر) جنوب کی طرف ہونا چاہئے تاکہ جانور بائیں (الٹے) پہلو لیٹا ہو اور اس کی پیٹھ مشرق کی طرف ہو، تاکہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو جائے اور ذبح کرنے والے نے اپنا یا جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے۔)[6](پھر جانور کی گردن کے قریب پہلو پر اپنا سیدھا پاؤں رکھ کر اَللّٰھُمَّ لَـكَ وَمِنْكَ بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیجئے۔

جانور ذبح کرتے وقت کی دعا

سوال …:                   قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے کونسی دعا پڑھی جاتی ہے؟

جواب …:                                              قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھی جاتی ہے:  

 



[1]    بہارِ شریعت،   اضحیہ یعنی قربانی کا بیان،   ۳ / ۳۲۷

[2]    عالمگیری ، كتاب الاضحية،   الباب الاوّل،   ۵ / ۲۹۲

[3]    در مختار،   كتاب الاضحية،   ۹ / ۵۳۳

[4]    مسند  احمد،   ۶ / ۴۰۷،   حدیث:۱۸۵۳۵

[5]    بہارِ شریعت،   قربانی کے جانور کا بیان،   ۳ / ۳۴۰ ملخصاً

[6]    فتاویٰ رضویہ،   ۲۰ / ۲۱۶



Total Pages: 146

Go To