Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

قرآنِ پاک میں مروی چند فوائد

                                                قرآنِ پاک میں مروی چند فوائد یہ ہیں :  

(1) … زکوٰۃ دینے والے پر رحمتِ الٰہی کی چھما چھم برسات ہوتی ہے۔ سورۂ اعراف میں ہے:   

وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ (پ۹، الاعراف: ۱۵۶)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لئے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔

(2)… زکوٰۃ دینے سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے ۔قرآنِ پاک میں مُتَّقِیْن کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:  

وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) (پ۱، البقرۃ: ۳)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں ۔

(3) … زکوٰۃ دینے والا کامیاب لوگوں کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں فلاح کو پہنچنے والوں کا ایک کام زکوٰۃ بھی گنوایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:  

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴) (پ ۱۸، المؤمنون:   ۱تا۴)

ترجمۂ کنز الایمان:  بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں ۔

(4) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  زکوٰۃ ادا کرنے والے کی مدد فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:  

وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ(۴۰)اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ(۴۱) (پ ۱۷، الحج:  ۴۰، ۴۱)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہقدرت والا غالب ہے،وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللہہی کے لئے سب کاموں کا انجام۔

(5) … زکوٰۃ ادا کرنا اللہکے گھروں یعنی مساجد کو آباد کرنے والوں کی صفات میں سے ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :  

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىٕكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ(۱۸) (پ۱۰، التوبۃ:  ۱۸)

 ترجمۂ کنز الایمان:  اللہکی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہاور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہکے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں ۔

(6) … زکوٰۃ دینے والے کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ دنیا وآخرت میں بڑھتا ہے ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے:

مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹) (پ۲۲، سبا: ۳۹)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور جو چیز تم اللہکی راہ میں خرچ کرو وہ اسکے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔

            ایک مقام پر ارشادہوتا ہے:  

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) (پ۳، البقرۃ: ۲۶۱، ۲۶۲)

ترجمۂ کنز الایمان:  ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہکی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ،ہربال میں سودانے اور اللہاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہوسعت والا علم والا ہے ، وہ جو اپنے مال اللہکی راہ میں خرچ کرتے ہیں ،پھر  دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔

احادیثِ مبارکہ میں مروی چند فوائد

(1) … تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔)[1](

 (2)… اپنے مال کی زکوٰۃ نکال کہ وہ پاک کرنے والی ہے، تجھے پاک کردے گی ۔ )[2](

 



[1]    الترغیب والترھیب،   کتاب الصدقات،   باب الترغیب فی اداءِ الزکوٰۃ،   ۱ / ۳۰۱ ، حدیث: ۱۲

[2]    مسنداحمد،   ۴ / ۲۷۳،   حدیث: ۱۲۳۹۷



Total Pages: 146

Go To