Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

جواب …:                                         فرض اور واجب روزوں کے علاوہ باقی ہر طرح کا روزہ نفلی ہوتا ہے اگرچہ ان میں سے بعض روزے سنت اور مستحب بھی ہیں :  مثلاً  ٭…  عاشورا یعنی دسویں محرم کا روزہ اور اس کے ساتھ نویں کا بھی ٭…  ہر مہینے میں تیرھویں ، چودھویں ، پندرھویں کا روزہ ٭…  عرفہ یعنی ذو الحجۃ الحرام کی 9تاریخ کا روزہ ٭…  پیر اور جمعرات کا روزہ ٭…  عید الفطر کے چھ روزے ٭…  ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا۔

سوال …:                    کیا کسی دن روزہ رکھنا منع بھی ہے؟

جواب …:                                         جی ہاں !  عیدین کے دو دن اور ماہِ ذو الحجۃ الحرام میں ایّام تشریق )[1](کے تین دن روزہ رکھنا مکروہِ تحریمی ہے۔

روزے کب اور کس پر فرض ہوئے؟

سوال …:                    رمضان کے روزے کب اور کس پر فرض ہوئے؟

جواب …:                                         تَوحِیدو رِسالت کا اِقْرار کرنے اور تمام ضَروریاتِ دِین پر ایمان لانے کے بعد جس طرح ہر مُسلمان پر نَماز فَرْض قرار دی گئی ہے اسی طرح رَمَضان شریف کے روزے بھی ہر مُسلمان (مَرد وعورت) عاقِل وبالِغ پر فَرض ہیں اور یہ روزے ۱۰ شعبانُ الْمُعَظَّم دو ہجری کو فرض ہوئے۔

سوال …:                    قرآنِ مجید میں روزوں کی فرضیت کا حکم کس آیتِ مبارکہ میں ہے؟

جواب …:                                         قرآنِ مجید میں روزوں کی فرضیت کا حکم سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 183 میں ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تَعَالٰی ہے:  

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳) (پ ۲، البقرۃ:  ۱۸۳)

ترجمۂ کنز الایمان:  اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔

سوال …:                    کیا روزہ پہلے کی امتوں پر بھی فرض تھا؟

جواب …:                                         جی ہاں !  روزہ گُزَشتہ اُمَّتوں میں بھی تھا مگر اُس کی صُورت ہمارے روزوں سے مختلِف تھی۔ رِوایات سے پتا چلتا ہے کہ

٭…  حضرتِ سَیِّدُنا آدَم عَلَیْہِ السَّلَام نے (ہر اسلامی ماہ کی)  ۱۳،۱۴،۱۵ تاریخ کو روزہ رکھا۔)[2](

٭…  حضرتِ سَیِّدُنا نُوح عَلَیْہِ السَّلَام  ہمیشہ روزہ دار رہتے۔)[3](

٭…  حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ہمیشہ روزہ رکھتے تھے کبھی نہ چھوڑتے تھے ۔ )[4](

٭…  حضرتِ سَیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَام ایک دن چھوڑ کرایک دن روزہ رکھتے ۔ )[5](

٭…  حضرتِ سَیِّدُنا سُلَیمان عَلَیْہِ السَّلَام تین دن مہینے کے شروع میں ، تین دن درمیان میں اور تین دن آخِر میں (یعنی مہینے میں ٭دن) روزہ رکھا کرتے۔ )[6](

روزہ تقویٰ و پرہیز گاری کی علامت ہے

سوال …:                    کیا روزہ تقویٰ و پرہیز گاری کی علامت ہے؟

جواب …:                                         جی ہاں !  روزہ پرہیز گاری کی علامت ہے کیونکہ سَخْت گرمی کے دنوں میں جب پیاس سے حلْق سُوکھ رہا ہو، ہَونٹ خُشک ہو چکے ہوں اور پانی بھی موجُود ہو تو بھی روزہ دار اُس کی طرف دیکھتا تک نہیں ۔ اسی طرح بھوک کی شِدّت کے باوجود روزہ دار کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ دار کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  پر کِتنا پُختہ ایمان ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اِس کی حَرَکَت ساری دُنیا سے تَو چُھپ سکتی ہے مگراللہ  عَزَّ وَجَلَّ  سے پَوشیدہ نہیں رَہ سکتی ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  پراِس کا یہ یقینِ کامِل روزے کا عملی نتیجہ ہے کیونکہ دُوسری عِبادتیں کِسی نہ کِسی ظاہِری حَرَکت سے ادا کی جاتی ہیں مگر روزے کا تَعلُّق باطِن سے ہے۔ اِس کا حال اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے سِوا کوئی نہیں جانتا اگر وہ چُھپ کر کھا پی لے تب بھی لوگ تَو یِہی سمجھتے رہیں گے کہ یہ روزہ دار ہے مگر وہ محض خوفِ خدا کے باعث کھانے پینے سے اپنے آپ کو بچا رہا ہے اور یہی تو تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔

سوال …:                    کس عمر میں روزہ رکھنا شروع کر دینا چاہئے؟

جواب …:                                         چھوٹے مدنی منوں کو بھی روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہئے تاکہ جب وہ بالِغ ہوجائیں تو اُنہیں روزہ رکھنے میں دُشواری نہ ہو۔ چُنانچِہ،

                        اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں :  بچہ جیسے آٹھویں سال میں قدم رکھے اس کے ولی پر لازم ہے کہ اسے نماز روزے کا حکم دے اور جب اسے



[1]    دس ذوالحجہ کے بعد کے تین دن(۱۱،  ۱۲،  ۱۳) کو ایام تشریق کہتے ہیں۔  (بہارِ شریعت،   حصہ چہارم کی اصطلاحات،   ۱ / ۵۵)

[2]    کنز العمال،   کتاب الصوم،   الجزء الثامن،   ۴ / ۲۵۸،   حدیث: ۲۴۱۸۸

[3]    ابن ماجہ،   کتاب الصیام،   باب ما جاء فی صیام نوح،   ۲ / ۳۳۳،   حدیث: ۱۷۱۴

[4]    کنز العمال،   کتاب الصوم،   الجزء الثامن،   ۴ / ۳۰۴،   حدیث: ۲۴۶۲۴

[5]    مسلم،   کتاب الصیام،   باب النھی عن صوم الدھر    الخ،   ص۵۸۷،   حدیث: ۱۸۷ - (۱۱۵۹)