Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

٭…  قبر کے سرہانے قبلہ رو کھڑے ہو کر اذان دیں ۔

٭…  قبر پر پھول ڈالنا بہتر ہے کہ جب تک تر رہیں گے تسبیح کریں گے اور میت کا دل بہلے گا۔  )[1](

تلقین

سوال …:                     تلقین کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب     :                       دفن کے بعد مُردہ کو تلقین کرنا شرعاً جائز ہے۔

سوال …:                     کیا تلقین حدیث سے ثابت ہے؟

جواب     :                      جی ہاں !  تلقین حدیثِ پاک سے ثابت ہے۔

سوال …:                     تلقین کا طریقہ کیا ہے؟

جواب     :                      تلقین کا طریقہ حدیثِ پاک میں کچھ یوں مروی ہے:  جب کوئی مسلمان فوت ہو تو اسے دفن کرنے کے بعد ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر تین بار یہ کہے:  یا فلاں بن فلانہ!  (فلاں کی جگہ میت کا نام اور فلانہ کی جگہ میت کی والدہ کا نام لے) پہلی بار وہ سنے گا مگر جواب نہ دے گا۔ دوسری بار سن کر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا اور تیسری بار یہ جواب دے گا:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  تجھ پر رحم فرمائے!  ہمیں ارشاد کر۔  مگر پکارنے والے کو اس کے جواب کی خبر نہیں ہوتی، لہٰذا تین بار یا فلاں بن فلانہ کہنے کے بعد یہ کہے:  ترجمہ:  تو اسے یاد کر جس پر تو دنیا سے نکلا یعنی یہ گواہی کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے رب اور اسلام کے دین اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نبی اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ )[2](

سوال …:                     تلقین کا کیا فائدہ ہے؟

جواب     :                       تلقین کا فائدہ یہ ہے کہ جب منکر نکیر سوال کرنے آتے ہیں اور لوگوں کو میت کو تلقین کرتے دیکھتے ہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے:  چلو!  ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے۔

سوال …:                     اگر کسی کو میت کی ماں کا نام معلوم نہ ہو تو تلقین کے وقت کیا کہے؟

جواب     :                       اگر کسی کو میت کی ماں کا نام معلوم نہ ہو تو ماں کی جگہ حضرت سیدتنا حوا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نام لے لے۔ )[3](

٭…٭…٭

ایصالِ ثواب

سوال …:                    ایصالِ ثواب سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                         ایصالِ ثواب سے مراد یہ ہے کہ زِندہ لوگ اپنے ہر نیک عمل اور ہر قسم کی عبادت خواہ مالی ہو یا بدَنی، فرض و نفل اور خیر خیرات کا ثواب مُردوں کو پہنچا سکتے ہیں ۔

سوال …:                     کیا ایصالِ ثواب کا ذکر کسی حدیثِ پاک میں بھی مروی ہے؟

جواب …:                                         جی ہاں !  بہت سی احادیثِ مبارکہ میں ایصالِ ثواب کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ،

                        سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ مشکبار ہے:  مُردہ کا حال قبر میں ڈوبتے ہوئے انسان کی مانند ہے کہ وہ شدّت سے اِنتظار کرتا ہے کہ باپ یا ماں یا بھائی یاکسی دوست کی دعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دعا اسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہ دنیا ومَافِیْھا (یعنی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس) سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قبر والوں کو ان کے زندہ مُتَعَلِّقین کی طرف سے ہَدِیّہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے، زندوں کا ہدیّہ (یعنی تحفہ) مُردوں کیلئے دُعائے مغفرت کرنا ہے۔ )[4]( اور طَبَرانِی شریف میں ہے:  جب کوئی شخص میِّت کو اِیصال ثواب کرتا ہے تو جبرئیل امین اسے نُورانی طباق (بڑی پلیٹ) میں رکھ کر قبر کے کَنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں :   ’’  اے قبر والے !  یہ ہَدِیّہ (تحفہ) تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے قَبول کر۔ ‘‘  یہ سن کر وہ خوش ہوتا ہے اور اس کے پڑوسی اپنی محرومی پر غمگین ہوتے ہیں ۔)[5](

 



[1]    ردالمحتار،   کتاب الصلاۃ،   باب صلاۃ الجنازۃ،   مطلب فی وضع الجرید     الخ،   ۳ / ۱۸۴ ماخوذاً

[2]    المعجم الکبیر،    ۸ / ۲۴۹،   حدیث۷۹۷۹

[3]    نماز كے احكام،   ص ۴۶۰

[4]    شعب الایمان،   الخامس والخمسون من شعب الایمان،   باب فی بر الوالدین،   ۶ / ۲۰۳،   حدیث: ۷۹۰۵

[5]    المعجم الاوسط،   ۵ / ۳۷ ، حدیث:۶۵۰۴



Total Pages: 146

Go To