$header_html

Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

معلوم ہوا جُمُعہ شریف کو فوت شدہ والِدَین یا ان میں سے ایک کی قَبْر پر حاضِر ہو کر یٰسین شریف پڑھنے والے کا تو بیڑا ہی پار ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  سورۂ یٰسین میں 5 رکوع 83 آیات 729 کلمات اور 3000 حروف ہیں ، اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک ہماری یہ گنتی دُرُست ہے تو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  تین ہزار مغفرتوں کا ثواب ملے گا۔

(8) سورۂ کہف کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَروی ہے کہ شفیع اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ با عظمت ہے:   ’’ جو شخص جمعہ کے روز سورۂ کہف پڑھے گا اس کے قدم سے آسمان تک نور بلند ہو گا جو قیامت کو اس کے لیے روشن ہوگا اور دو جمعوں کے درمیان جو گناہ ہوئے ہیں بخش دیئے جائیں گے۔ ‘‘ )[1]( اور ایک روایت میں ہے:   ’’ جو شخص بروزجمعہ سورۂ کہف پڑھے اس کے لیے دونوں جمعوں کے درمیان نور روشن ہوگا۔ ‘‘ )[2](

(9) جمعہ کے پانچ خصوصی اعمال

رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظم ہے:   ’’ پانچ چیزیں جو ایک دن میں کرے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کو جنتی لکھ دے گا:  (۱)جو مریض کی عیادت کو جائے (۲)نمازِ جنازہ میں حاضر ہو (۳)روزہ رکھے

(۴)نمازِ جمعہ کو جائے اور (۵) غلام آزاد کرے۔ ‘‘ )[3](

شرائطِ جُمُعہ

جُمُعہ واجب ہونے کے لئے گیارہ شرطیں ہیں ، ان میں سے ایک بھی کم ہو تو فرض نہیں ، پھر بھی اگر کوئی پڑھ لے تو ہو جائے گا بلکہ عاقِل بالِغ مرد کے لئے جُمُعہ پڑھنا افضل ہے۔ نابالِغ نے جُمُعہ پڑھا تو نَفل ہے کہ اس پر نَماز فرض ہی نہیں۔)[4](

 ’’ یاغوثَ الاعظم  ‘‘ کے 11 حُروف کی نسبت

سے جمعہ کی ادائیگی فرض ہونے کی گیارہ شرائط

(۱) شَہر میں مُقیم ہونا (۲) صِحّت یعنی مریض پر جُمُعہ  فرض نہیں مریض سے مُراد وہ ہے کہ جامع مسجد تک نہ جاسکتا ہو یا چلا توجائے گا مگر مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھّاہو گا۔ شیخِ فانی)[5](مریض کے حکم میں ہے (۳)آزاد ہونا ، غلام پر جُمُعہ فرض نہیں اوراُس کاآقا مَنع کرسکتاہے (۴) مرد ہونا(۵) بالِغ ہونا (۶) عاقِل ہونا۔یہ دونوں شرطیں یعنی عاقل و بالغ ہونا خاص جُمُعہ کے لیے نہیں بلکہ ہر عبادت کے واجب ہونے میں شَرط ہیں (۷) انکھیارا ہونا (۸) چلنے پر قادِر ہونا (٭)قَید میں نہ ہونا (۱۰)بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا(۱۱) بارش یا آندھی یا اَولے یا سردی کا نہ ہونا یعنی اِس قَدَر کہ ان سے نقصان کا خوفِ صحیح ہو۔ )[6](  جن پر نَماز فرض ہے مگر کسی شَرعی عُذر کے سبب جُمُعہ فرض نہیں ، اُن کو جُمُعہ کے روز ظہر معاف نہیں ہے وہ تو پڑھنی ہی ہوگی۔

خطبہ کے متعلق چند مفید باتیں

جو جُمُعہ کے دن کلام کرے جبکہ امام خُطبہ دے رہا ہو تواس کی مثال اُس گدھے جیسی ہے جو بوجھ اٹھائے ہو اوراُس وقت جوکوئی اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ ’’  چپ رہو ‘‘  تواُسے جُمُعہ کا ثواب نہ ملے گا۔)[7](

خطبہ سننا واجب ہے

جو چیزیں نَماز میں حرام ہیں مَثَلاً کھانا پینا، سلام و جواب وغیرہ یہ سب خُطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ نیکی کی دعوت دینا بھی۔ہاں خطیب نیکی کی دعوت دے سکتا ہے۔ جب خُطبہ پڑھے تو تمام حاضِرین پر سننا اور چُپ رَہنا واجب ہے، جو لوگ امام سے دُور ہوں کہ خُطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچتی اُنہیں بھی چُپ رَہنا واجب ہے اگر کسی کو



[1]    الترغیب والترھیب،   کتاب الجمعۃ،   الترغیب فی قراءۃ سورۃ الکھف     الخ،   ۱ / ۲۹۸،   حدیث: ۲

[2]    المرجع السابق،   ص  ۲۹۷،   حدیث: ۱

[3]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،   کتاب الصلاۃ،   باب صلوۃ الجمعۃ،   ۴ / ۱۹۱،   حدیث۲۷۶۰

[4]    نماز کے احکام،   ص ۴۲۴

[5]    شیخِ فانی: وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتا جائے گا جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا (توشیخ فانی ہے)۔ (بہارِ شریعت،  اصطلاحات،    ۱ / ۵۵)

[6]    درمختار وردالمحتار،   کتاب الصلاۃ،   باب الجمعۃ،   مطلب فی شروط     الخ،   ۳ / ۳۰ تا ۳۳

[7]    مسندِ احمد ، ۱ / ۴۹۴،   حدیث: ۲۰۳۳



Total Pages: 146

Go To
$footer_html