Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

ہے۔ ‘‘  )[1]( (چُونکہ اس کاشَرَف بَہُت زِیادہ ہے، لہٰذا) جُمُعہ کے روز گُناہ کا عذاب بھی ستّر گُنا ہے۔)[2](

جُمُعہ کے دن کے اعمال

سوال …:                     جمعہ کے دن کیا کام کرنے چاہئیں ؟

جواب …:                       جمعہ کے دن یہ کام کرنے چاہئیں :  

(1) غسل جمعہ

          نمازِ جمعہ سے پہلے غسل کرنا چاہئے۔ چنانچہ مروی ہے کہ ’’ جمعہ کا غسل بال کی جڑوں سے خطائیں کھینچ لیتا ہے۔ ‘‘ )[3](اور ایک روایت میں ہے:  جو جُمُعہ کے دن نہائے اُس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور جب وہ (مسجد کی طرف) چلنا شروع کرتا ہے تو ہر قدم پر بیس سال کاعمل لکھا جاتا ہے۔ ‘‘  اور جب نَماز سے فارغ ہو تو اُسے دو سو برس کے عمل کا اجر ملتا ہے۔)[4](

(2) جمعہ کے دن زینت اختیار کرنا

جمعہ کے دن زینت اختیار کرنا چاہئے۔ یعنی لباس و جسم کی صفائی کے ساتھ ساتھ مسواک کرنا چاہئے، خوشبولگانی چاہئے، ناخن ترشوانے چاہئیں ، حجامت بنوانی چاہئے۔ چنانچہ،

حضرتِ سیِّدُناسَلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سلطانِ دوجہان، شَہنَشاہِ کون ومکان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  جو شخص جُمُعہ کے دن نہائے اور جس طہارت (یعنی پاکیزگی) کی استِطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور گھر میں جو خوشبو ہو مَلے، پھر نَماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جُدائی نہ کرے یعنی دو شخص بیٹھے ہوئے ہوں اُنھیں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نَماز اُس کے لئے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جَب خُطبہ پڑھے تو چُپ رہے اُس کے لئے اُن گناہوں کی جو اِس جُمُعہ اور دوسرے جُمُعہ  کے درمیان ہیں مغفرت ہو جائیگی۔)[5]( مروی ہے کہ ’’ جو شخص جُمُعہ کے دن اپنے ناخُن کاٹتا ہے اللہ تعالٰی اُس سے بیماری نکال کر شِفا داخِل کر دیتا ہے۔ ‘‘ )[6](

سوال …:                     حجامت بنوانے اور ناخن ترشوانے کا کام جمعہ سے پہلے کرنا چاہئے یا جمعہ کے بعد؟

جواب …:                       حجامت بنوانے اور ناخُن تَرشوانے کا کام جمعہ سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے مگر جُمُعہ کے بعد یہ کام کرنا افضل ہے۔ ‘)[7](

(3) عمامہ شریف باندھنا

عمامہ شریف چاہئے تو یہ کہ ہر روز باندھا جائے مگر جمعہ کے دن بالخصوص عمامہ باندھنے کی فضیلت بھی مروی ہے۔ چنانچہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ رَحمت بُنیاد ہے:   ’’ بے شک اللہ تعالٰی اور اس کے فرِشتے جُمُعہ کے دن عمامہ باندھنے والوں پر دُرُود بھیجتے ہیں ۔ ‘‘ )[8](

(4) دُرودِ پاک کثرت سے پڑھنا

جمعہ کے دن دُرودِ پاک کثرت سے پڑھنا چاہئے۔ چنانچہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  جمعہ کے دن مجھ پر دُرود کی کثرت کرو کہ یہ دن مشہود ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو دُرود پڑھتا ہے مجھ پر پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے۔ حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں نے عرض کی اور کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری  کے بعد بھی؟ ارشاد فرمایا:  ہاں اسکے بعد بھی!  کیونکہ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْاَرْضِ اَنْ تَاْكُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِيَآءِ فَنَبِیُّ اللّٰهِ حَیٌّ يُّرْزَقُ۔ یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   نے زمین پر انبیا کے جسم کھانا حرام کر دیا ہے، اللہ کا نبی زندہ ہے، روزی دیا جاتا ہے۔)[9](

 (5) جامع مسجد کی طرف جلدی جانا

 



[1]    مراٰۃ المناجیح،   جمعہ کاباب،   ۲ / ۳۲۵

[2]    مراٰۃ المناجیح،   صفائی اور جلدی کرنا،   ۲ / ۲۳۶

[3]    المعجم الکبير،   ۸ / ۲۵۶،   حدیث: ۷۹۹۶

[4]    المعجم الاوسط،   ۲ / ۳۱۴،   حدیث: ۳۳۹۷

[5]    بخاری،  کتاب الجمعۃ،   باب الدھن للجمعۃ،    ۱ / ۳۰۶،   حدیث: ۸۸۳

[6]    المصنَّف لابن ابی شیبہ،   کتاب الجمعۃ،   باب فی تنقیۃ الاظفار     الخ،   ۲ / ۶۵،   حدیث: ۲

[7]    در مختار،   کتاب الحظر والاباحۃ،   فصل فی البیع،   ۹ / ۶۶۸

[8]    مجمعُ الزوائد،   کتاب الصلاۃ،   باب اللباس للجمعۃ،   ۲ / ۳۹۴،   حدیث۳۰۷۵

[9]    ابن ماجہ،   کتاب الجنائز،   باب ذکر وفاتہ و دفنہ صلی اللہ علیہ وسلم



Total Pages: 146

Go To