Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

ترویحہ سے مراد

سوال …:                       ترویحہ سے کیا مراد ہے؟

جواب …:             ترویحہ سے مراد ہر چار رکعت کے بعد کا وہ وقفہ ہے جس میں اتنی دیر آرام کیلئے بیٹھا جاتا ہے جتنی دیر میں چار رکعت پڑھی ہیں اور یہ مستحب ہے۔ 

سوال …:                       ترویحہ کے دوران کیا کرنا یا پڑھنا چاہئے؟

جواب …:             ترویحہ کے دوران اختیار ہے:  چپ بیٹھا رہے یا ذکر و درود اور تلاوت کرے یا تنہا نفل پڑھے۔ )[1]( یہ تسبیح بھی پڑھ سکتے ہیں :  

سُبْحَانَ ذِی الْمُلْكِ وَالْمَلَكُوْتِ سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّۃِ وَالْعَظَمَۃِ وَالْھَیْبَۃِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْكِبْرِیَآءِ وَالْجَبَرُوْتِ ط سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَنَامُ وَلَا یَمُوْتُ ط سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَّبُّـنَا وَرَّبُّ الْمَلٰٓـئِكَۃِ وَالرُّوْحِ ط اَللّٰھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ ط یَا مُجِیْرُ!  یَا مُجِیْرُ!  یَا مُجِیْرُ!  بِرَحْمَتِكَ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن  )[2](

تراویح پڑھانے کی اُجرت لینا

سوال …:                       تراویح پڑھانے کی اُجرت لینا کیسا ہے؟

جواب …:   تراویح پڑھانے کی اُجرت لینا ناجائز و حرام ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں اُجرت دے کر میِّت کے ایصالِ ثواب کیلئے خَتمِ قرآن وذکرُ اللہ کروانے سے متعلّق جب اِسْتِفتا پیش ہوا تو جواباً ارشاد فرمایا:  تلاوتِ قرآن و ذکر الٰہی پر اُجرت لینا دینا دونوں حرام ہے۔ لینے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں اور جب یہ فِعلِ حرام کے مُرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اَموات (یعنی مرنے والوں ) کو بھیجیں گے؟ گناہ پر ثواب کی اُمید اور زیادہ سخت واَشَد (یعنی شدید ترین جُرم) ہے۔ )[3](

سوال …:                       اگر تراویح پڑھانے کی اُجرت طے نہ کی جائے اور لوگ یا انتظامیہ کچھ خدمت وغیرہ کریں تو کیا یہ لینا جائز ہے؟

جواب …:   اگر تراویح پڑھانے کی اُجرت طے نہ کی جائے اور لوگ یا انتظامیہ کچھ خدمت وغیرہ کریں تو یہ لینا جائز نہیں ، کیونکہ طے کرنے ہی کو اُجرت نہیں کہتے بلکہ اگر یہاں تراویح پڑھانے اِسی لئے آتے ہیں کہ معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگرچِہ طے نہ ہوا ہو تو یہ بھی اُجرت ہی ہے۔ (لہٰذایہ ناجائز و حرام ہے نیز) اُجرت رقم ہی کا نام نہیں بلکہ کپڑے یا غلّہ وغیرہ کی صورت میں بھی اُجرت،اُجرت ہی ہے۔ہاں اگر حافِظ صاحِب اصلا حِ نیّت کے سا تھ صاف صاف کہہ دیں کہ میں کچھ نہیں لوں گا یا پڑھوانے والا کہہ دے، نہیں دوں گا۔ پھر بعد میں حافِظ صاحِب کی خدمت کردیں تو حرج نہیں کہ اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔ )[4](

سوال …:   اگر حافظ اُجرت نہ لے مگر اپنی تیزی دکھانے، خوش آوازی کی داد پانے اور نام چمکانے کیلئے قرآنِ پاک پڑھے تو کیا اسے ثواب ملے گا؟

جواب …:   اگر حافظ اُجرت نہ لے مگر اپنی تیزی دکھانے، خوش آوازی کی داد پانے اور نام چمکانے کیلئے قرآنِ پاک پڑھے تو ثواب تو دُور کی بات ہے، اُلٹا حبِّ جاہ اور ریاکاری کی تباہ کاری میں جا پڑے گا، لہٰذا پڑھنے پڑھانے والوں کو اپنے اندر اِخلاص پیدا کرنا ضَروری ہے۔

متفرق مسائل

سوال …:   اگر کوئی الگ الگ مساجد میں تراویح پڑھے تو کیا اس کا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب …: جی ہاں !  اگر کوئی الگ الگ مساجد میں تراویح پڑھنا چاہتا ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے مگر اسے خیال رکھنا چاہئے کہ ختم قرآن میں نقصان نہ ہو۔ مثلاً تین مساجد ایسی ہیں کہ ان میں ہر روز سوا پارہ پڑھا جاتا ہے تو تینوں میں روزانہ بار ی باری جا سکتا ہے۔

سوال …:   بعض لوگ امام کے رکوع میں پہنچنے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ، ان کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب …: جو لوگ امام کے رکوع میں پہنچنے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ منافقین سے مشابہت ہے۔ چنانچہ سورۃ النسآء کی آیت نمبر 142 میں ہے:  

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ۵، النسآء:  ۱۴۲ )

ترجمۂ کنز الایمان:  بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہکو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

لہٰذا کوئی عذر نہ ہو تو فرض کی جماعت میں بھی اگر امام رکوع سے اُٹھ گیا تو سجدوں وغیرہ میں فوراً شریک ہوجائیں ، نیز امام قعدۂ اولیٰ میں ہو تب بھی اس کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کریں



[1]    غنية المتملی،   فصل فی النوافل،   التراویح،   ص ۴۰۴

[2]    فيضانِ سنت،   فيضانِ تراويح،   ۱ / ۱۱۲۲

[3]    فتاویٰ رضویہ،   ۲۳ / ۵۳۷

[4]    فيضانِ سنت،   فيضانِ تراويح،   ۱ / ۱۰۹۹



Total Pages: 146

Go To