Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

جواب …:            اذان کہنے والے کو مؤذِّن کہتے ہیں ۔

سوال …:                    اذان سننے والاکیا کرے؟

جواب …:            جب اذان ہوتو اتنی دیر کے لئے سلام کلام اور سارے کام یہاں تک کہ قرآن کی تلاوت بندکردے، اذان کو غورسے سنے اور جواب دے۔

سوال …:                    جو شخص اذان کے وقت باتیں کرتا رہے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب …:            جو شخص اذان کے وقت باتوں میں لگا رہے اس پر مَعَاذَ اللہ  خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے۔)[1](            

سوال …:                    اذان کا جواب دینے سے کیا مراد ہے؟

جواب …:            اذان کا جواب دینے سے مراد یہ ہے :

٭…  مؤذن جو کلمات کہے اس کے بعد سننے والا بھی وہی کلمات کہے۔مگر حَیَّ عَلَی الصَّلٰوة ، حَیَّ عَلَی الْـفَلَاح کے جواب میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ کہے۔

٭…  جب مؤذن اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ کہے توسننے والا درود شریف پڑھے اور مستحب ہے کہ انگوٹھوں کو بوسہ دے کر آنکھوں سے لگا لے اور کہے:  قُرَّةُ عَیْنِیْ بِكَ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَر۔یعنی یارسول اللہ!  میری آنکھوں کی ٹھنڈک آپ سے ہے۔ یاالٰہی!  مجھے سننے اور دیکھنے سے فائدہ پہنچا۔ )[2](

٭…  فجر کی اذان میں جب مؤذن اَلصَّلٰوةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہے تو سننے والا کہے:  

صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْتَ)[3](

٭…  جب اذان ختم ہوجائے تو مؤذن اور اذان سننے والا ہر فرد درود شریف پڑھ کر یہ دعا پڑھے:

اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّآمَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ سَیِّدَنَا مُحَمَّدَ  ۨۨ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَا   ۨۨالَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ وَاجْعَلْنَا فِیْ شَفَاعَتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّكَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ؕ    )[4](

ترجمہ: اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  اس دعوۃِتامہ اور صلوٰۃِ قائمہ کے مالک تو ہمارے سردار محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وسیلہ اور فضیلت اور بہت بلند درجہ عطا فرما اور ان کو مقامِ محمود میں کھڑا کر جس کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت نصیب فرما، بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔

٭…٭…٭

اقامت کا بیان

سوال …:                    اقامت کسے کہتے ہیں ؟

جواب …:            جماعت قائم ہونے سے پہلے جلدی جلدی ہلکی آواز سے اذان کے الفاظ پڑھنے کو اقامت یا تکبیر کہتے ہیں ۔

سوال …:                    اذان واقامت میں کیا فرق ہے؟

جواب …:            اذان اور اقامت میں تھوڑا سا فرق ہے اور وہ یہ ہے:  

٭…  اذان میں کانوں کے سوراخوں میں انگلیاں رکھتے ہیں جبکہ اقامت میں ایسا نہیں کرتے۔

٭…  اذان عام طور پر بلند جگہ اور مسجد سے باہر کہی جاتی ہے جبکہ اقامت مسجد میں امام کی پچھلی صف میں دائیں یا بائیں کھڑے ہو کر کہی جاتی ہے۔

٭…  اذان اور نماز کے درمیان کافی وقت ہوتا ہے جبکہ اقامت کے فوراً بعد نماز شروع ہو جاتی ہے۔

٭…  پانچوں وقت صرف اقامت میں حَیَّ عَلَی الْـفَلَاح کے بعد دو بار قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ   (یعنی نماز قائم ہو چکی) کہا جاتا ہے۔

سوال …:                    اقامت کا جواب کس طرح دیا جائے؟

جواب …:            اس کا جواب بھی اسی طرح ہے جیسے اذان کا ، ہاں اس میں قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ  کے جواب میں یہ کلمہ کہے:  اَقَامَھَا اللّٰهُ وَاَدَامَھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۔



[1]    جامع الرموز للقھستانی،   کتاب الصلاۃ،   فصل الاذان،   ۱ / ۱۲۴

[2]    ردالمحتار،   كتاب الصلاة،   مطلب فی كراھة تكرار الجماعة    الخ،   ۲ / ۸۴

[3]    ردالمحتار،   كتاب الصلاة،   مطلب فی كراھة تكرار الجماعة     الخ،   ۲ / ۸۳

[4]    بہارِ شریعت،   اذان کا بیان،   ۱ / ۴۷۴

 



Total Pages: 146

Go To