Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

ہے:  یعنی نورِ عظیم اور وہ نوروں کا نور،نبی مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ۔)[1](  اور فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے کہ علما فرماتے ہیں :  یہاں نور سے مراد محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ۔ )[2](

سوال …:                     کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے  نور ہونے کا ذکر خود بھی فرمایا ہے؟

جواب …:                       جی ہاں !  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے  نور ہونے کا ذکر خود بھی فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا جابر بن عبد اللہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:  یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں باپ آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ) پر قربان!  مجھے بتائیے کہ سب سے پہلے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے کیا چیز بنائی؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اے جابر!  بے شک بالیقین، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ )[3](

سوال …:                     سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بشریت کا انکار کرنا کیسا؟

جواب …:                       سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بشریت کا مطلقاً انکار کفر ہے۔)[4](بلکہ اِس میں شک کرنا بھی کفر ہے کیونکہ شفیع اُمّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بَشَرِیَّت قرآنِ مجید کی نَصِّ قَطعی سے ثابِت ہے۔ ہاں اپنے جیسا بشر نہ کہے خیرُ البشر، سیِّدُ البشر کہے۔)[5](  کیونکہ تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بشر ہی تھے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا  (پ ۱۳، یوسف:  ۱۰۹)  ترجمۂ کنز الایمان:   اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے۔

سوال …:                     سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے جیسا بشرکہنا کیسا ہے؟

جواب …:                       سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو اپنے جیسا بشر کہنا اہلِ ایمان کا طریقہ نہیں ، کیونکہ بقصدِ تحقیر ایسا کہنا حرام بلکہ ناپاک ارادے کی بنا پر ایسا کہنا بلاشبہ کفر ہے۔ یقیناً آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بشر بھی ہیں لیکن آپ کی بشریت عام انسانوں کی طر ح نہیں ، لہٰذا آپ کی بشریت کو عام انسانوں کی طرح قرار دینا مسلمانوں کا شیوہ نہیں بلکہ قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر اسے کافروں کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے نبی کو اپنے جیسا بشر سمجھتے تھے۔ چنانچہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:   وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۲۳)فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ-(پ۱۸، المؤمنون:  ۲۳ ،۲۴)  ترجمۂ کنز الایمان:   اور بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں تو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی۔ معلوم ہوا نبی کی شان گھٹانے کے لیے بشر بشر کی رٹ لگانا کفارناہنجار کا طریقہ ہے اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بشر تو ہیں مگر ہماری مثل نہیں بلکہ افضل البشرہیں ۔

٭…٭…٭

دوسرا باب  ایک نظر میں

کیا آپ نے نامِ محمد کے اعداد کی نسبت سے عقیدۂ توحید و رسالت کے متعلق

درج ذیل 92 سوالات کے جوابات جان لئے ہیں ؟

1          ایمان کسے کہتے ہیں ؟

2          کُفر کے کیا معنی ہیں ؟

3          ضَروریاتِ دین کسے کہتے ہیں ؟

4          ضروریاتِ دین کے منکر کا حکم کیا ہے؟

5          ضَروریاتِ مذہبِ اہلِ سُنّت سے کیا مراد ہے؟

6          ضروریاتِ مذہبِ اہل سنت کے منکر کا حکم کیا ہے؟

 



[1]    تفسیر روح المعانی،   پ۶،   المآئدۃ،   تحت الآیۃ: ۱۵،   الجزء السادس،   ص ۳۶۷

[2]    فتاویٰ رضویہ،   ۳۰ / ۷۰۷

[3]    الجزء المفقود من الجزء الاول من المصنف،   کتاب الایمان،   باب فی تخلیق نور محمد،   ص ۶۳،   حدیث: ۱۸فتاویٰ رضویہ،   ۳۰/ ۶۵۸مواھب لدنیہ،   المقصد الاول تشریف اللہ تعالٰی لہ،   ۱ / ۳۶

[4]    فتاویٰ رضویہ،   ۱۴ / ۳۵۸

 

[5]    کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،   ص ۲۲۴



Total Pages: 146

Go To