Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

جواب …:                        مقامِ محمود سے مراد وہ خاص مقام ہے جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  بروزِ قیامت سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عطا فرمائے گا کہ تمام اولین و آخرین حضور کی حمد و ستائش کریں گے۔ )[1] (

سوال …:                    لِوَاءُ الْحَمْد کیا ہے اور بروزِ قیامت کس کے پاس ہو گا؟

جواب …:                                         لِوَاءُ الْحَمْد ایک جھنڈے کا نام ہے جو بروزِ قیامت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مرحمت ہو گا، سب لوگ اس کے نیچے ہوں گے۔)[2] (

٭…٭…٭

مَحَبَّتِ مُصطفٰے

سوال …:  ہمیں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کس قدر محبت ہونی چاہیے؟

جواب …: ہمیں اپنے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سب سے زیادہ محبت ہونی چاہیے، کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت عین ایمان ہے اور جب تک حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت ماں باپ اولاد بلکہ تمام جہاں سے زیادہ نہ ہو کوئی شخص کامل مسلمان نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠(۲۴) (پ۱۰، اٰلتوبۃ:  ۲۴)

ترجمۂ کنز الایمان:  تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔ اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى اَكُوْنَ اَحَبَّ اِلَـيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِينَ۔ یعنی تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ )[3] (

سوال …:                      سلطانِ بَحرو بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا تقاضا کیا ہے؟

جواب …:                                             سلطانِ بَحرو بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام صحابہ و اہل بیت اور تمام متعلقین و متوسلین سے محبت کی جائے اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام دشمنوں سے عداوت و دشمنی ہو۔ اگرچہ وہ اپنا باپ یا بیٹا یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ رسول سے بھی محبت ہو اور ان کے دشمنوں سے بھی۔)[4](  چنانچہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۳) (پ۱۰،التوبۃ: ۲۳)

ترجمۂ کنز الایمان:  اے ایمان والو اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں ۔

ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:  

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۲۲)

ترجمۂ کنز الایمان:  تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہاور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میںاللہنے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں اللہان سے راضی اور وہ اللہسے راضی یہ اللہکی جماعت ہے سنتا ہے اللہہی کی جماعت کامیاب ہے۔(پ۲۸،المجادلۃ: ۲۲)

 



[1]    سنی بہشتی زیور،   سید الانبیاء کے فضائلِ مبارکہ،   ص ۳۳

[2]    ترمذی،   کتاب المناقب ، ۵ / ۳۵۴،   حدیث: ۳۶۳۵

[3]    بخاری،   کتاب الایمان،   باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان،   ۱ / ۱۷،   حدیث: ۱۵

[4]    الشفاء،   فصل فی علامات محبتہ صلی اللہ علیہ وسلم،   الجزء الثانی ، ص۲۱



Total Pages: 146

Go To