Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

سوال …:                     جو شخص ختم نبوت کو نہ مانے اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟

جواب …:   جو شخص سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ میں یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کا اعتقاد رکھے یا کسی نئے نبی کے آنے کو ممکن مانے وہ کافر ہے۔)[1] (

سوال …:   حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری سے کیا عقیدہ ختم نبوت پر کوئی فرق واقع ہو سکتا ہے؟

جواب …:  جی نہیں ! حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی فرق واقع نہیں ہو گا، اس لیے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری بطورِ نبی نہیں بلکہ بطورِ امتی ہو گی۔ چنانچہ تفسیرِ نسفی میں ہے کہ سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کوئی نبی نہیں ، حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تشریف آوری نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ شریعتِ محمدیہ کے ایک پیروکار کی حیثیت سے ہو گی گویا کہ وہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے امتی ہوں گے۔)[2] (

سوال …:                       کیا ختم نبوت کا ثبوت قرآنِ کریم میں ہے؟

جواب …:                         جی ہاں !  ختم نبوت کا عقیدہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰) (پ ۲۲،الاحزاب : ۴۰)

ترجمۂ کنز الایمان:  محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

            امام خازن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :  خَتَمَ اللهُ بِهِ النُّـبُوَّةَ فَلَا نُـبُوَّةَ بَعْدَهٗ اَیْ وَلَا مَعَهٗ۔ ترجمہ:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلسلۂ نبوت کو ختم فرما دیا، اب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی نبوت میں آپ کے ساتھ شریک ہے۔)[3] (

٭…٭…٭

معراجِ مصطفٰے

سوال …:                      معراج سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                              تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک، پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں اور کرسی و عرش تک اور وہاں سے اوپر جہاں تک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کو منظور ہوا رات کے تھوڑے سے حصہ میں سیر کرائی۔ اس رات بارگاہِ خداوندی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وہ قربِ خاص حاصل ہوا کہ کسی نبی اور فرشتہ کو نہ کبھی حاصل ہوا نہ کبھی ہوگا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس آسمانی سفر کو  ’’ معراج ‘‘  کہتے ہیں ۔ )[4] (

سوال …:                      معراج شریف کب ہوئی؟

جواب …:  معراج شریف رجب المرجب کی ۲۷ ویں رات کو ہوئی۔

سوال …:                      معراج شریف کا تذکرہ قرآنِ کریم کی کس سورت میں ہے؟

جواب …:  معراج شریف کا تذکرہ قرآنِ کریم کے پارہ نمبر 15، سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں کچھ یوں ہے:

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱)

 (پ۱۵، بنی اسرآئیل:  ۱)

ترجمۂ کنز الایمان:  پاکی ہے اُسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجِدِ حرام سے مسجِد اقصیٰ تک جس کے گِرد اگِرد ہم نے بَرَکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بے شک وہ سنتا دیکھتا ہے۔

سوال …:                    شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کیا کیا دیکھا؟

جواب …:  شبِ معراج سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عرش و کرسی، لوح و قلم، جنت و دوزخ، زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی دیگربے شمار بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا، سب سے بڑھ کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس رات اپنے سر کی آنکھوں سے جمالِ الٰہی کا دیدار کیا اور بغیر کسی واسطہ کے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا کلام سنا۔ )[5] (

 



[1]    المعتقد المنتقد مع شرحہ المعتمد المستند،   تکمیل الباب،   ص۱۲۰

[2]    تفسیر نسفی،   پ۲۲،   الاحزاب،   تحت الآیۃ:۴۴،   ص ۹۴۳

[3]    تفسیر ابن کثیر،   پ۲۲،   الاحزاب،   تحت الآیۃ:۴۴،   ۶ /۳۹۱

[4]    تفسیراتِ احمدیۃ ، بنی اسرآئیل،   تحت الآیۃ :۱،  مسئلۃ المعراج ، ص۵۰۲۔۵۰۵ ملتقطاً نبراس،  بیان المعراج،   ص۲۹۲۔۲۹۵ملتقطاً

[5]    بہارِ شریعت،   عقائد متعلقہ نبوت،   ۱ /  ۶۷ ماخوذاً



Total Pages: 146

Go To