Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

سوال …:  اگر کوئی شخص غیرِ خدا کے متعلق یہ عقیدہ رکھے کہ اسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا کے بِغیر علمِ غیب حاصِل ہے تو اسے کیا کہیں گے؟

جواب …:  ایسا عقیدہ رکھنا صریح کفر ہے۔ اس لیے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جس کو بھی علمِ غیب ملا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا سے ملا۔ چنانچہ بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 10پر ہے:  کوئی شخص غیرِ خدا کے لئے ذاتی (یعنی بغیر کے دیئے) علمِ غیب مانے وہ کافر ہے۔

سوال …:  جو لوگ نبیوں اور رسولوں بالخصوص سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب کو بالکل نہیں مانتےانہیں کیاکہیں گے؟

جواب …:                                         جو لوگ نبیوں اور رسولوں بالخصوص سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم غیب کو بالکل نہیں مانتے، کافر ہیں کیونکہ اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ شریف کی 29ویں جلد کے صفحہ 414 پر مطلقاً علمِ غیب کے انکار کو ضروریاتِ دین کا انکار قرار دیا ہے اور جو شخص ضروریاتِ دین کا منکر ہو کافر ہوتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ جو شخص علمِ غیب تو مانے لیکن غیوبِ خمسہ کو نہ مانے تو وہ بدمذہب و گمراہ ہے کیونکہ غیوبِ خمسہ پر ایمان ضروریاتِ اہل سنت سے ہے اور ضروریاتِ اہل سنت کا منکر بدمذہب و گمراہ ہوتا ہے۔

٭…٭…٭

سورۃ البقرہ کے فضائل

صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خزائن العرفان میں سورۂ بقرہ کی ابتدا میں فرماتے ہیں:  اس سورت میں 286 آیتیں، 40 رکوع، 6121 کلمے، پچیس ہزار پانچ سو حرف ہیں ۔ (خازن) پہلے قرآنِ پاک میں سورتوں کے نام نہ لکھے جاتے تھے، یہ طریقہ حجّاج نے نکالا ۔ ابنِ عربی کا قول ہے کہ سورۂ بقرہ میں ہزار امر، ہزار نہی، ہزار حکم، ہزار خبریں ہیں۔ اس کے اخذ میں برکت ، ترک میں حسرت ہے، اہلِ باطل جادو گر اس کی استطاعت نہیں رکھتے، جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے تین دن تک سرکش شیطان اس میں داخل نہیں ہوتا۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جائے۔ (جمل) بیہقی و سعید بن منصور نے حضرت مغیرہ سے روایت کی کہ جو شخص سوتے وقت سورۂ بقرہ کی دس آیتیں پڑھے گا قرآن شریف کو نہ بھولے گا، وہ آیتیں یہ ہیں چار آیتیں اوّل کی اور آیت الکرسی اور دو اس کے بعد کی اور تین آخر سورت کی۔ مسئلہ:  طبرانی وبیہقی نے حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کی کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:  میت کو دفن کر کے قبر کے سرہانے سورۂ بقرہ کے اول کی (پانچ) آیتیں اور پاؤں کی طرف آخر کی (دو) آیتیں پڑھو۔

کُتُبِ رِسَالَت

سوال …:                    اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے کتنے صحیفے )[1]( اور آسمانی کتابیں نازل فرمائی ہیں ؟

جواب …:                                         اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اپنے نبیوں پر جو صحیفے اور آسمانی کتابیں نازل فرمائیں ان کی یقینی تعداد بیان کرنا ممکن نہیں ، البتہ!  ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 100 ہے۔)[2](

سوال …:                    کیا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ان صحیفوں اور آسمانی کتابوں کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی فرمایا ہے؟

جواب …:                                         جی ہاں !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ان صحیفوں اور آسمانی کتابوں کا ذکر قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر فرمایا ہے۔ چنانچہ،

٭…  کچھ صحیفے حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل فرمائے اور ان کا تذکرہ کچھ یوں فرمایا:  

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ(۱۸) صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠(۱۹) (پ۳۰،الاعلٰی: ۱۸،۱۹)

ترجمۂ کنز الایمان:  بے شک یہ اگلے صحیفوں میں ہے، ابراہیم اور موسٰی کے صحیفوں میں ۔

٭…  توریت حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل فرمائی اور اس کا ذکر کچھ یوں فرمایا:  

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ (پ۱، البقرۃ: ۸۷)                                   ترجمۂ کنز الایمان:  اور بے شک ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی۔

                خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں ہے کہ اس کتاب سے توریت مراد ہے۔

٭…  زبور حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل فرمائی اور اس کا ذکر کچھ یوں فرمایا:  

وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا(۵۵) ۱۵،بنی اسرآئیل: ۵۵)

 



[1]    مخلوق کی ہدایت کے لیے اللہ تَعَالٰی کی اتاری ہوئی چھوٹی چھوٹی کتابیں یا ورق جو قرآن شریف سے پہلے اتارے گئے،   انہیں صحیفے کہتے ہیں،   ان صحیفوں میں اچھی اچھی مفید نصیحتیں اور کارآمد باتیں ہوتی تھیں۔(ہمارا اسلام،   ص ۴۹)

[2]    النبراس،   بیان الکتب المنزلۃ،   ص ۲۹۰



Total Pages: 146

Go To