Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

سوال …:                    کیا کوئی ولی مرتبہ  میں کسی نبی کے برابر ہو سکتا ہے؟

جواب …:                                         جی نہیں !  ولی چاہے کتنے ہی بڑے مرتبے والا ہو ہرگز ہرگز کسی نبی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ جو کسی غیر نبی کو کسی نبی سے افضل یا برابر بتائے وہ کافر ہے۔)[1](

سوال …:                    کیا سب نبی مرتبے کے لحاظ سے آپس میں برابر ہیں ؟

جواب …:                                         جی نہیں !  سب نبیوں کے درجے مختلف ہیں ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:  تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ- ( پ۳،البقرۃ: ۲۵۳)   ترجمۂ کنز الایمان:   یہ رسو ل ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا۔

سوال …:                    مرتبے کے لحاظ سے سب سے افضل پانچ نبیوں کے نامِ مبارک بتائیے؟

جواب …:                                         سب سے افضل و اعلیٰ ہمارے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ۔ پھر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے بڑا مرتبہ  حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا ہے پھر حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا، پھر حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا درجہ ہے۔ ان پانچوں حضرات کو مرسلین اولوالعزم کہتے ہیں ۔ یہ پانچوں باقی تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل ہیں ۔ )[2](

٭…٭…٭

حیاتِ اَنْبیا و رُسُل

سوال …:                    انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی حیاتِ طیبہ کے متعلق ہمارا عقیدہ کیا ہے؟

جواب …:                                         انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی حیاتِ طیبہ کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی قبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے، کھاتے پیتے ہیں اور جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں ۔)[3](

سوال …:                    کیا حیات کا عقیدہ قرآن سے ثابت ہے؟

جواب …:                                         جی ہاں ! حیات کا عقیدہ قرآن سے ثابت ہے۔ چنانچہ،

سوال :          پ 2، سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 154میں ہے:  

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔

 2 …:     پ 4، سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 169میں ہے:  

وَ  لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  قُتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَمْوَاتًاؕ-بَلْ  اَحْیَآءٌ  عِنْدَ  رَبِّهِمْ  یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹)

ترجمۂ کنز الایمان:  اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں ۔

3 …:     پ 14، سورۂ نحل کی آیت نمبر 97 میں ہے:  

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-  ترجمۂ کنز الایمان:  جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے۔

سوال …:  قرآنِ کریم میں تو صرف بعض مومنین و مومنات اور شہدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی حیات ثابت ہے، انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی حیات کیسے ثابت ہو گی؟

جواب  …:   پ 5، سورۂ نساء کی آیت نمبر 69میں ہے:  

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-ترجمۂ کنز الایمان:  اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہنے فضل کیا یعنی انبیا اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ۔

                        اس آیتِ مبارکہ میں جن چار گروہوں کا تذکرہ ہے ان میں شہدائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا ذکر تیسرے نمبر پر اور عام نیک لوگوں کا ذکر چوتھے نمبر پر ہے، جب انعام شدہ لوگوں میں تیسرے نمبر والوں کی حیات قرآنِ کریم سے ثابت ہے تو دوسرے نمبر پر موجود صدیقین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن اور پہلے نمبر پر موجود انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی حیات بدرجۂ اولیٰ



[1]    المرجع السابق    

[2]    بہارِشریعت،   عقائد متعلقہ نبوت،   ۱ / ۵۲

[3]    بہارِ شریعت،   عقائد متعلقہ نبوت،   ۱ / ۵۸



Total Pages: 146

Go To