Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

الْعِبَادَةِ۔ ترجمہ:  دعاعباد ت کا مغزہے۔)[1]( اور نہ مانگنے کی صورت میں ربِ جلیل کا نہایت سخت حکم بھی سنایا:  مَنْ لَا یَدْعُوْنِی اَغْضِبُ عَلَیْهِ )[2]( یعنی جو مجھ سے نہ مانگے گا میں اس پر غضب فرماؤں گا۔

آدابِ دعا

صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی  ’’ خزائن العرفان ‘‘  میں فرماتے ہیں:  اللہ تعالٰی بندوں کی دعائیں اپنی رحمت سے قبول فرماتا ہے اور انکے قبول کے لیے چند شرطیں ہیں :  ایک اخلاص دعا میں ۔ دوسرے یہ کہ قلب غیر کی طرف مشغول نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ وہ دعا کسی امرِ ممنوع پر مشتمل نہ ہو۔ چوتھے یہ کہ اللہ تعالٰی کی رحمت پر یقین رکھتا ہو۔پانچویں یہ کہ شکایت نہ کرے کہ میں نے دعا مانگی قبول نہ ہوئی۔ یہ شرائط نقل فرمانے کے بعد صدر الافاضل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  جب ان شرطوں سے دعا کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے حدیث شریف میں ہے کہ دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے یا تو اس کی مراد دنیا ہی میں اس کو جلد دے دی جاتی ہے یا آخرت میں اس کے لیے ذخیرہ ہوتی ہے یااس سے اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیا جاتا ہے۔ )[3](

دعا کے تین فائدے

            شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے:  جو مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ و قطع رحمی کی کوئی بات شامل نہ ہو تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور عطا فرماتا ہے:  

(1)… اس کی دعا کا نتیجہ جلد ہی اس کی زندگی میں ظاہر ہو جاتا ہے۔

 (2)… اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کوئی مصیبت اس بندے سے دور فرما دیتا ہے۔

(3)… اس کے لئے آخرت میں بھلائی جمع کر دی جاتی ہے۔

            ایک روایت میں ہے کہ بندہ جب آخرت میں اپنی دعاؤں کا ثواب دیکھے گا جو دنیا میں مستجاب (یعنی مقبول) نہ ہوئی تھیں تو تمنا کرے گا:  کاش!  دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔)[4](

٭…٭…٭

آیتُ الکرسی کی فضیلت

                جو شخص ہر نماز کے بعد آیة الکرسی پڑھے گا اس کو حسب ذیل برکتیں نصیب ہوں گی:  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ

(1) وہ مرنے کے بعد جنت میں جائے گا۔

(2) وہ شیطان اور جن کی تمام شرارتوں سے محفوظ رہے گا۔

(3) اگر محتاج ہوگا تو چند دنوں میں اس کی محتاجی اور غریبی دُور ہو جائے گی۔

(4) جو شخص صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت آیة الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں خٰلِدُوْنَ تک پڑھا کرے گا وہ چوری، غرق آبی اور جلنے سے محفوظ رہے گا۔

(5) اگر سارے مکان میں کسی اونچی جگہ پر لکھ کر اس کا کتبہ آویزاں کر دیا جائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس گھر میں کبھی فاقہ نہ ہوگا بلکہ روزی میں برکت اور اِضافہ ہوگا اور اس مکان میں کبھی چور نہ آسکے گا۔ (جنّتی زیور، ص۵۸۹)

مآخذ و مراجع

1

قراٰن مجید  

کلام باری تعالٰی

مکتبة المدینه باب المدینه (کراچی)

2

کنزالایمان فی ترجمة القرآن

اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان، متوفی۱۳۴۰ھ

مکتبة المدینه باب المدینه (کراچی)

3

تفسیرالطبری

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری ،متوفی ۳۱۰ھ

دار الکتب العلمیة، بیروت۱۴۱۴ھ

4

التفسیرالکبیر

امام فخر الدین محمد بن عمر بن حسین رازی، متوفی ۶۰۶ھ

دار احیاء التراث العربی، بیروت ۱۴۲۰ھ

5

الجامع لاحکام القرآن

امام محمد بن احمد القرطبی ،متوفی۶۷۱ھ

دارالفکر، بیروت ۱۴۲۰ھ

6

تفسیر المدارک

امام عبد الله بن احمد بن محمود نسفی، متوفی ۷۱۰ھ

دار المعرفة، بیروت ۱۴۲۱ ھ

7

تفسیرالخازن

علاء الدین علی بن محمدبغدادی، متوفی ۷۴۱ھ

المطبعة المیمنیة، مصر

 



[1]    ترمذی،   کتاب الدعوات،   باب ما جاء فی فضل الدعاء،   ۵ / ۲۴۳،   حدیث: ۳۳۸۲

[2]    الجامع الصغیر،   ص ۳۷۷،   حدیث: ۶۰۶۹

[3]