Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

صفات میں شرک سے مراد

سوال …:                    اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی صفات میں شرک سے کیا مراد ہے؟

جواب …:   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی کسی صفت میں کسی مخلوق کو شریک کرنایا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی صفات کی طرح کسی اور میں وہی صفات ماننا شرک ہے۔جیسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیشہ سے ہے اسی طرح کسی اور کے لیے یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اللہ تعالٰی کی طرح ہمیشہ سے ہے۔ یا  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ذاتی طور پر سننے والا ہے کسی اور کے لیے ذاتی طور پر سننے کا عقیدہ رکھنا صفات میں شرک ہے۔ یاد رکھئے! قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کی بعض صفات انبیائے کرام عَلَیہِمُ السَّلام، اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلام نیز عام بندوں کے لیے بھی ذکر کی گئی ہیں جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اپنی دو صفات ذکر فرماتاہے:  اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ(۷)(پ۱۴،النحل: ۷) دوسرے مقام پراپنے پیارے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے یہی صفات ذکر فرمائیں:  رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۲۸)یہ ہرگز ہرگز شرک نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات ذاتی، لامحدود اور قدیم یعنی کسی کی پیدا کردہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی جبکہ رَسُوْلُ ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    کی صفات عطائی یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ ، محدود اور حادِث (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیدا کردہ)ہیں ۔ایک اور مقام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اپنی صفات ذکر فرماتا ہے:  اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱) (پ۱۵،بنی اسرائیل: ۱) یہی دو صفات بندوں کے لیےیوں ذکر فرمائی:  فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۲) (پ۲۹،الدھر: ۲)یہ بھی یقیناًصفات میں شرک نہیں کیونکہ بندوں کی صفات عطائی،محدود اور حادِث ہیں ۔اس فرق کے ہوتے ہوئے شرک لازم نہیں آتا۔       

اَسما میں شرک سے مراد

سوال …:                    اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے اَسما یعنی ناموں میں شرک سے کیا مراد ہے؟

جواب …:             اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے اَسمایعنی ناموں میں کسی مخلوق کو شریک کرنااَسما میں شرک ہے۔ جیسے کسی اورکو اللہ کہنا۔ آیتِ مبارکہ  هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠(۶۵) (پ۱۶، مریم: ۶۵) ترجمۂ کنز الایمان :  کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو۔ کے تحت خزائن العرفان میں ہے: یعنی کسی کو اس کے ساتھ اِسمی شرکت بھی نہیں اور اُس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبودِ باطل کا نام اللہ نہیں رکھا ۔   

اَفعال میں شرک سے مراد

سوال …:                        اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے اَفعال یعنی کاموں میں شِرک سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                                 جو اَفعال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ خاص ہیں ان میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا ”اَفعال میں شرک“ کہلاتا ہے۔ جیسے نبوت و رسالت عطا فرمانا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فعل ہے چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:  اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ(۷۵) (پ ۱۷،الحج: ۷۵)  ترجمۂ کنز الایمان :  اللہ چُن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول اور آدمیوں میں سے بیشک اللہ  سنتا دیکھتا ہے۔اس لیے کسی اور کو نبوت عطا کرنے والا ماننا اَفعال میں شرک ہے۔

اَحکام میں شرک سے مراد

سوال …:                         اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے احکام میں شِرک سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                                  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کے احکام میں کسی دوسرے کو شریک جاننا یا غَیرُ اللہ  کے حکم کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    کے حکم کے برابر قرار دینا” احکام میں شرک “کہلاتاہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ   فرماتاہے:  اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ- (پ۱۲،یوسف: ۴۰)  ترجمۂ کنز الایمان: حکم نہیں مگراللہ کا۔دوسرے مقام پرفرمایا:  وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا(۲۶) (پ ۱۵، الکھف: ۲۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔یاد رکھئے !  رَسُوْلُ ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی عطا سے ہے اس لیے یہ احکام میں شرک نہیں ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:  قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ (پ۱۰،التوبۃ: ۲۹) ترجمۂ کنز الایمان: لڑو اُن سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کِیا اللہ  اور اُس کے رسول نے۔فرمانِ مصطفٰے (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہے :  اَلَا وَاِنَّ مَا حَـرَّمَ رَسْوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا حَـرَّمَ اللهُ    یعنی خبردار!  جس چیز کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول حرام کردے وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کی طرف سے حرام کردہ کی طرح حرام ہے۔)[1](

نُبُوَّت و رسالت

جس انسان کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   نے مخلوق کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو اسے نبی کہتے ہیں اور ان نبیوں میں سے جو اللہ  عَزَّوَجَلَّ   کی طرف سے کوئی نئی آسمانی کتاب اور نئی شریعت لے کر آئے وہ  ’’ رسول ‘‘  کہلاتے ہیں ۔ )[2]( نبی سب مرد تھے‘ نہ کوئی جن نبی ہوا، نہ کوئی عورت۔ )[3]( سب سے پہلے پیغمبر حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام ہیں



[1]    ابن ماجہ،   کتاب السنۃ،  باب تعظیم حدیث رسول اللہ ۔۔۔الخ،  ۱۵ / ۱

Total Pages: 146

Go To