Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

کائنات،شَہَنْشاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری حیات کے زمانے میں اِس صِفَت کے کچھ افراد بطورِ مُنافِقِین مشہور ہوئے، ان کے باطِنی کُفر کو قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ نیز سلطانِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعطائے الٰہی اپنے وسیع عِلم سے ایک ایک کو پہچانا اورنام بنام فرما دیا کہ یہ یہ منافِق ہیں ۔ اب اِس زمانے میں کسی مخصوص شخص کی نسبت یقین سے کہنا کہ وہ مُنافِق ہے ممکِن نہیں کہ ہمارے سامنے جو اسلام کا دعویٰ کرے ہم اُسے مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک کہ ایمان کے مُنافی (یعنی ایمان کے اُلٹ) کوئی قَول (بات) یا فعل (کام) اُس سے سَرزَد نہ ہو۔ البتہ نِفاق یعنی مُنافَقَت کی ایک شاخ اِس زمانے میں بھی پائی جاتی ہے کہ بَہُت سے بدمذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جائے تو اسلام کے دعوے کے ساتھ ساتھ بَہُت سے ضَروریاتِ دین کا انکار بھی کرتے ہیں )[1](

مُرتَد

سوال …:                    مُرتَد کسے کہتے ہیں ؟

جواب …:                                          مُرتَد وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے اَمر کا انکار کرے جو ضَروریاتِ دین سے ہو۔ یعنی زَبان سے کلِمۂ کفر بکے جس میں تاویلِ صحیح کی گُنجائش نہ ہو۔ یونہیں بعض اَفعال (کام) بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہوجاتا ہے مَثَلاً بُت کو سجدہ کرنا،مُصحَف شریف (قرآنِ پاک) کو نَجاست کی جگہ پھینک دینا۔)[2](

٭…٭…٭

توحیدِ باری تعالٰی

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی ہستی کا یقین ہر شخص کی فطرت میں شامل ہے، خاص طور پر مصیبت، بیماری اورموت کے وقت اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑے بڑے منکرین کی زبانوں پر بھی بے ساختہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کا نام آ ہی جاتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے متعلق ہمارے عقائد کیا ہیں :  

سوال …:                    ’’ ہر شے کا خالق اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   ہے ‘‘   کیا یہ درست ہے؟

جواب …:                                       جی ہاں !  یہ درست ہے کہ ہر شے کا خالق اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   ہی ہے کیونکہ جس انسان میں تھوڑی سی بھی عقل ہو دنیا کی چیزوں کو دیکھ کر یہ یقین کر لے گا کہ بے شک یہ آسمان، یہ ستارے اور سیارے، انسان و حیوان اور تمام مخلوق کسی نہ کسی کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہیں ۔ آخر کوئی ہستی تو ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا کیونکہ جب ہم کسی کرسی یا دروازے اور کھڑکیوں وغیرہ کو دیکھتے ہیں تو فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ ان کو کسی نہ کسی کاریگر نے بنایا ہے اگرچہ ہم نے اپنی آنکھ سے اسے بناتے ہوئے نہ دیکھا لیکن ہماری عقل نے ہماری رہنمائی کی اور ہم نے اس بات کا یقین کر لیا کہ ان چیزوں کا کوئی بنانے والا ہے۔ کسی نے کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ جب قدموں کے نشانات سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ کس کے ہیں تو پھر آسمان و زمین کو دیکھ کر یہ یقین کیوں نہیں ہوتا کہ اِن کا بھی کوئی بنانے والا ہے۔

توحیدِ باری تَعَالٰی کے متعلق چند عقائد اور ان کی وضاحت

توحید سے مراد

سوال …:                    توحید سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                         توحید سے مراد اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی وحدانیت کو ماننا ہے یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   ایک ہے اور کوئی بھی اس کا شریک نہیں ، نہ ذات میں نہ صفات میں ، نہ اَسما (ناموں ) میں ، نہ افعال (کاموں ) میں اور نہ ہی احکام میں ۔

سوال …:                    اگر کوئی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی ذات و صفات، اسما و افعال اور احکام میں سے کسی ایک میں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کا شریک مانے تو اسے کیا کہتے ہیں ؟

جواب …:                                         اگر کوئی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی ذات و صفات، اسما و افعال اور احکام میں سے کسی ایک میں بھی کسی کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کا شریک مانے تو اسے مشرک و کافر کہتے ہیں ۔

ذات میں شرک سے مراد

سوال …:                    اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی ذات میں شرک سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                         اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی ذات میں شرک سے مراد یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کسی اور کو بھی خدا مانا جائے، حالانکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، اس لیے کہ اگر کوئی اور خدا بھی ہوتا تو یہ نظامِ زندگی برباد ہو جاتا۔ جیساکہ قرآن مجید میں ہے:  لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَاۚ  (پ۱۷، الانبیآء: ۲۲) ترجمۂ کنز الایمان:  اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتےتو ضرور وہ تباہ ہو جاتے۔

 



[1]     بہارِ شریعت،   ایمان و کفر کا بیان،   ۱ / ۱۸۲ ملخّصًا

[2]     بہارِ شریعت،   مرتد کا بیان،   ۹ / ۴۵۵

 



Total Pages: 146

Go To