Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

ترجمۂ کنز الایمان:  اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (ریتلی زمین) پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کا م دیکھ رہا ہے۔

            صدر الافاضِل حضرت مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خَزائنُ العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں :  یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کا باغ ہر حال میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ!  ایسے ہی با اخلاص مومن کا صدقہ اور انفاق (یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا) خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ تعالٰی اس کو بڑھا تاہے اور وہ تمہاری نیت اور اخلاص کو جانتا ہے ۔

”اخلاص“ کے 5حروف کی نسبت سے اس کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے

(1)… جو دنیاسے اس حال میں گیاکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے اپنے تمام اعمال میں مخلص تھا اور نماز، روزے کا پابند تھا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس سے راضی ہے۔)[1](

(2)… اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  وہی عمل پسند فرماتاہے جو اخلاص کے ساتھ اس کی رضا چاہنے کے لئے کیا جاتاہے۔)[2](

(3)… اے لوگو!  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیے جاتے هیں اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور رشتہ داري کی وجہ سے کیا۔)[3](

(4)…اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ )[4](

(5)… جب آخر ی زمانہ آئے گا تو میری امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی ۔ایک گروہ خالصًا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت کرے گا دوسرا گروہ دِکھاوے کے لیے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت کرے گا اور تیسرا گروہ اس لیے عبادت کرے گا کہ وہ لوگوں کا مال ہڑپ کرجائے۔ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  بروزِ قیامت ان کو اٹھائے گا تو لوگوں کا مال کھا جانے والے سے فرمائے گا:  میری عزت اور میرے جلال کی قسم!  میری عبادت سے تو کیا چاہتا تھا؟ تو وہ عرض کرے گا:  تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم!  میں تو بس لوگوں کا مال کھانا چاہتا تھا۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:  تو نے جو کچھ جمع کیا اس نے تجھے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اسے دوزخ میں ڈال دو۔ پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  دِکھاوے کے لیے عبادت کرنے والے سے فرمائے گا:  میری عزت اور میرے جلال کی قسم!  میری عبادت سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ وہ عرض کرے گا:  تیری عزت و جلال کی قسم!  لوگوں کو دکھانا۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرما ئے گا:  اس کی کوئی نیکی میری بارگاہ میں مقبول نہیں ، اسے دوزخ میں ڈال دو۔ پھر خالصًا اپنی عبادت کرنے والے سے فرمائے گا:  میری عزّت اور میرے جلال کی قسم !  میری عبادت سے تیرا کیا مقصود تھا؟ وہ عرض کرے گا:  تیری عزت و جلال کی قسم ! میرے اِرادے کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ، میں تیری رضا چاہتا تھا۔ ارشاد فرمائے گا:  میرے بندے نے سچ کہا، اسے جنت کی طر ف لے جاؤ۔ )[5](

٭…٭…٭

جھوٹ

سوال …:                     جھوٹ سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                           خلافِ واقع بات کرنے کو جھوٹ کہتے ہیں ۔ )[6](

سوال …:                     سب سے پہلے جھوٹ کس نے بولا؟

جواب …:                                          سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا کہ جھوٹ بول کر حضرت سیدنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو گندم کا دانہ کھلایا۔

سوال …:                     کیا جھوٹ بولنے کی طرح جھوٹ لکھنا بھی گناہ ہے؟

جواب …:                                           جی ہاں !  جھوٹ لکھنا بھی گناہ ہے۔

سوال …:                     اپریل فول مناناکیسا ہے؟

جواب …:                                          اپریل فول منانا گناہ ہے اور یہ احمقوں اور بے وقوفوں کا طریقہ ہے۔ یکم اپریل کو لوگوں کو جھوٹی باتیں بتاکر یا جھوٹی خبریں لکھ کر مذاق کیاجاتاہے جو کہ ناجائز وگناہ ہے، لہٰذا اس ناجائز و برے طریقے سے بچنا بہت ضروری ہے۔

 



[1]    مستدرک ، کتاب التفسیر،   باب خطبۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم     الخ ، ۳ / ۶۵،   حدیث۳۳۳۰  ملتقطاً

[2]    نسائی،   کتاب الجھاد،   باب من غزا يلتمس الاجر والذكر،   ص ۵۱۰،   حدیث:۳۱۳۷

[3]    دار قطنی،   کتاب الطھار ت ، باب النیۃ،   ۱ / ۷۳،   حدیث:۱۳۰ ملخصاً

[4]    مستدرک ،  کتاب الرقاق،   ۵ / ۴۳۵،   حدیث: ۷۹۱۴

[5]    المعجم الاوسط،   ۴ / ۳۰،   حدیث: ۵۱۰۵

[6]    حدیقہ ندیہ،   ۲ / ۲۰۰



Total Pages: 146

Go To