Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

(2)اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس عمل کو قبول نہيں کرتا جس ميں رائی کے دانے کے برابر بھی رِيا ہو۔)[1](

(3)اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ہر رِیاکار پر جنت کو حرام کردیا ہے۔)[2](

(4)… جس نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ساتھ غیرِ خدا کے لئے دکھلاوا کیا تحقیق وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ذمۂ کرم سے بَری ہو گیا۔)[3]( (5)… قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید کا فیصلہ ہوگا جب اسے لایا جائے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا:   ’’ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو جھوٹا ہے تونے جہاد اس لئے کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کے بارے میں جہنم میں جانے کا حکم دے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر اُس شخص کو لایا جائے گا جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآنِ کریم پڑھا، وہ آئے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس سے دریافت فرمائے گا:   ’’ تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا:   ’’ میں نے علم سیکھا سکھایا اور تیرے لئے قرآن کریم پڑھا۔ ‘‘  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو جھوٹاہے، تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآنِ کریم اس لئے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھر اسے بھی جہنم میں ڈالنے کا حکم ہو گا تو اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے کثرت سے مال عطا فرمایا تھا، اسے لاکر نعمتیں یاد دلائی جائیں گی، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس سے دریافت فرمائے گا:   ’’ تونے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ ‘‘  وہ عرض کرے گا:   ’’ میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا۔ ‘‘  تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا:   ’’ تو جھوٹا ہے، تونے ایسا اس لئے کیا تھا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا۔ ‘‘  پھر اسے بھی جہنم میں ڈالنے کا حکم ہوگا تو اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔)[4](

پیارے مدنی منو!  انسان کے پاس تین اہم اور قیمتی چیزیں ہوتی ہیں جس سے وہ زیادہ محبت کرتا ہے:  [۱] جان [۲] وقت (یعنی زندگی) اور [۳]مال۔ اس حدیثِ پاک میں ان تینوں چیزوں کو قربان کیا گیا یعنی شہید نے اپنی جان قربان کی، عالم و قاری نے اپنی ساری زندگی علم وقرآن سیکھنے سکھانے میں قربان کی اور سخی نے اپنا مال قربان کیا مگر بروزِ قیامت ریا کاری کے سبب بارگاہِ خداوندی میں ان کے یہ اعمال قبول نہ ہوں گے بلکہ انہیں منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

دکھاوے کی نمازیں

حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کیمیائے سعادت میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ نے ارشاد فرمایا:  میں نے تیس برس کی نمازیں قضا کیں جو میں نے ہمیشہ پہلی صف میں ادا کی تھیں ۔ اس کا باعث یہ ہواکہ ایک دن مجھے کسی وجہ سے تاخیر ہوگئی تو آخری صف میں جگہ ملی ۔ میں نے اپنے دل میں اِس بات سے شرم محسوس کی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ آج اتنی دیرسے آیا ہے؟ اُس وقت میں سمجھا کہ یہ سب لوگوں کے دِکھانے کے لیے تھا کہ وہ مجھے پہلی صف میں دیکھیں۔ چنانچہ میں نے یہ تمام نمازیں دوبارہ پڑھیں ۔ )[5](

٭…٭…٭

اخلاص

ہر مسلمان کوچاہیے کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت ونیک اعمال میں ریا کاری جیسے گناہ کو شامل نہ ہونے دے بلکہ جو بھی نیک اعمال کرے خاص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کو راضی کرنے کے لئے کرے کہ اس کو اخلاص کہتے ہیں اور یاد رکھے کہ اخلاص والی نیکی ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں مقبول ہے۔

اخلاص کے متعلق فرامینِ باری تعالیٰ

مخلص مومن کی مثال

قرآنِ پاک میں مخلص مومن کی مثال ان الفاظ کے ساتھ دی گئی ہے:  

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵) (پ۳، البقرۃ: ۲۶۵)

 



[1]    الترغیب والترھیب،  کتاب الاخلاص،   ۱ / ۴۷،   حدیث: ۵۴

[2]    جامع الاحادیث،   ۲ / ۴۷۶،   حدیث:۶۷۲۵

[3]    المعجم الکبیر،   ۲۲ / ۳۱۹،   حدیث : ۸۰۵

[4]    مسلم،  کتاب الامارۃ،  باب من قاتل للریاء     الخ،   ص۱۰۵۵،   حدیث:۱۵۲ - (۱۹۰۵)

[5]    کیمیائے سعادت،   رکب چہارم،   اصل پنجم،   حقیقت اخلاص،   ۲ / ۸۷۶



Total Pages: 146

Go To