Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

اس کی طرف اب دھیان کم دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ عوام کے سامنے اگرچِہ انتِہائی مُنْکَسِرُ المزاج وملنسار گردانے جاتے ہیں مگر اپنے گھر میں بالخصوص والِدَین کے حق میں نہایت ہی تُندمزاج و بداَخلاق ہوتے ہیں ۔ ایسوں کی توجُّہ کیلئے عرض ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک حدیث پاک میں جن تین اشخاص کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ جَنّت میں نہیں جائیں گے ان میں سے ایک ماں باپ کو ستانے والا بھی ہے۔)[1](

بڑ ے بھائی کا احترام

سوال …:                       کیا ہم پر بڑے بھائی کا احترام کرنا ضروری ہے؟

جواب …:                         جی ہاں !  والِدَین کے ساتھ ساتھ دیگر اہلِ خاندان مَثَلاً بھائی بہنوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔والِد صاحِب کے بعد دادا جان اور بڑے بھائی کا رُتبہ ہے کہ بڑا بھائی والِد کی جگہ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:  بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسے والِد کا حق اولاد پر۔ )[2](

 رِشتہ داروں کا احتِرام

سوال …:                       رشتے داروں کے ساتھ ہمیں کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟

جواب …:                         تمام رِشتہ داروں کے ساتھ ہمیں اچھّا برتاؤ کرنا چاہئے۔چنانچہ مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ جسے یہ پسند ہو کہ عُمر میں درازی اور رِزْق میں فَرَاخی ہو اور بُری موت دَفْع ہو وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  سے ڈرتا رہے اور رِشتہ داروں سے حُسنِ سُلوک کرے۔ ‘‘  )[3](

پڑوسیوں کا احترام

سوال …:                       پڑوسیوں کے ساتھ ہمیں کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟

جواب …:                         ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچّھا برتاؤ کرے اور بِلامَصْلِحَتِ شَرْعی ان کے احتِرام میں کمی نہ کرے۔ افسوس!  آج کل پڑوسیوں کو کوئی خاطِر میں نہیں لاتا۔ حالانکہ پڑوسیوں کی اَہَمِیَّت کے لیے یہی کافی ہے کہ بندہ اگر یہ جاننا چاہتا ہو کہ اس نے فلاں کام اچھا کیا یا براتو دیکھے کہ اس کام کے متعلق اس کے پڑوسی کیا کہتے ہیں ؟ چنانچہ ایک شخص نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ عالیشان میں عرض کی:  یارسُول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  مجھے یہ کیوں کر معلوم ہو کہ میں نے اچھّا کیا یا بُرا؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سُنو کہ تم نے اچّھا کیا تو بیشک تم نے اچّھا کیا اور جب یہ کہتے سُنو کہ تم نے بُرا کیا تو بے شک تم نے بُرا کیاہے۔ ‘‘  )[4](

دوستوں اور ہم سفروں کا احترام

سوال …:                       دوستوں اور ہم سفروں کے ساتھ ہمیں کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟

جواب …:                         ٹرین یا بس وغیرہ میں اگر نِشَسْتَیں کم ہوں تو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ بعض بیٹھے ہی رہیں اور بعض کھڑے کھڑے ہی سفر کریں ۔ بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ سارے باری باری بیٹھیں اور تکلیفیں اُٹھا کر ثواب کمائیں ۔ چُنانچِہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ غزوۂِ بدر میں فی اونٹ تین افراد تھے۔ چُنانچِہ حضرتِ ابولُبابہ اور حضرتِ علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی سُواری میں شریک تھے۔ دونوں حضرات کا بیان ہے کہ جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیدل چلنے کی باری آتی تو ہم دونوں عَرْض کرتے کہ سرکار!  آپ سُوار ہی رہئے، حضور کے بدلے ہم پیدل چلیں گے۔ ارشاد فرماتے:   ’’ تم مجھ سے زِیادہ طاقتور نہیں ہو اور تمہاری طرح میں بھی ثواب سے بے نیاز نہیں ہوں ۔ ‘‘  )[5]( (یعنی مجھے بھی ثواب چاہئے پھر میں کیوں پیدل نہ چلوں )

٭…٭…٭

دوسروں کی مدد کرنا

سوال …:                       بطورِ مسلمان کیا ہمیں دوسروں کے دکھ درد کو ان کی مدد کرنی چاہئے؟

جواب …:                         جی ہاں !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا کروڑ ہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دامن کرم عطا فرمایا۔ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہماپنے مسلمان بھائی کی تکلیف کو اپنی تکلیف تصور کریں اور اپنے اسلامی بھائی کی مدد کریں ۔ چنانچہ،

                        سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے:   ’’ جو آدمی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کر دے میں اس کے میزان کے پاس کھڑا ہو جاؤں گا اگر زیادہ وزن ہوگیا تو ٹھیک، ورنہ میں اس کے حق میں سفارش کروں گا۔ ‘‘ )[6](  ایک روایت میں ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت میں چل



[1]    مسند احمد،   ۲ / ۳۵۱،   حدیث: ۵۳۷۲ ملخصاً

[2]    شعب الایمان،   الخامس والخمسون من شعب الایمان،   فصل فی حفظ حق     الخ،   ۶ / ۲۱۰،   حدیث: ۷۹۲۹

[3]    مستدرک،   کتاب البر والصلۃ،   باب من سرہ ان یدفع     الخ،   ۵ / ۲۲۲،   حدیث: ۷۳۶۲

[4]    ابن ماجہ،   کتاب الزھد،   الثناء الحسن،   ۴ / ۴۷۹،   حدیث: ۴۲۲۳

[5]    شرح السنۃ،   کتاب السیر والجھاد،   باب العقبۃ،   ۵ / ۵۶۵،   حدیث: ۲۶۸۰

[6]    حلیۃ الاولیاء،   ۶ / ۳۸۹،   حدیث: ۹۰۳۸



Total Pages: 146

Go To