Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

ہے۔ ‘‘ )[1](

اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !  ہمیں گفتگو کرنے کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭…٭…٭

زلفیِں رکھنے کے مدنی پھول

سوال …:                    زلفیں رکھنے میں سنت کیا ہے؟

جواب …:                      سرکارِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت کریمہ ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سرمبارک کے بال شریف کبھی نصف کان مبارک تک تو کبھی کان مبارک کی لو تک رہتے اور بعض اوقات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گیسو بڑھ جاتے تو مبارک شانوں کو جھوم جھوم کر چومنے لگتے۔ بال چونکہ بڑھنے والی چیز ہے۔اس لئے جس صحابی نے جیسا دیکھا وہی روایت کردیا۔ چنانچہ ،

آدھے کانوں کی لو تک:  حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بال مبارک آدھے کانوں کی لو تک تھے۔)[2](

کانوں کی لو تک:        حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سلطانِ مدینہ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گیسو مبارک مقدس کانوں کی لو کو چومتے تھے۔)[3](

شانوں تک:                                                                                  ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں کہ میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سراقدس پر جو بال مبارک ہوتے وہ کان مبارک کی لو سے ذرا نیچے اور مبارک شانوں سے ذرا اوپر ہوتے تھے۔)[4](

سوال …:                    کیا سر کے بیچ میں سے مانگ نکالنا سنت ہے؟

جواب …:                      جی ہاں !  سر کے بیچ میں سے مانگ نکالنا سنت ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے:  بعض لوگ داہنے یا بائیں جانب مانگ نکالتے ہیں یہ سنت کے خلاف ہے۔ سنت یہ ہے کہ اگر سر پر بال ہوں تو بیچ میں مانگ نکالی جائے اور بعض لوگ مانگ نہیں نکالتے بلکہ بالوں کو سیدھا رکھتے ہیں یہ سنت ِ منسوخہ اور یہودونصاریٰ کا طریقہ ہے۔)[5](

ان تمام احادیث ِمبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ اپنے سراقدسپر پورے ہی بال رکھے، آج کل جو چھوٹے چھوٹے بال رکھے جاتے ہیں اس طرح کے بال رکھنا سنت نہیں ہے، لہٰذا طرح طرح کے تراش خراش والے بال رکھنے کے بجائے ہمیں چاہیے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں اپنے سر پر آدھے کانوں کی لو تک، کانوں کی لو تک یا اتنی بڑی زلفیں رکھیں کہ شانوں کو چھو لیں ۔)[6](

اے ہمارے پیارے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  ہم سب مسلمانوں کو خلافِ سنت بال رکھنے اور رکھوانے کی سوچ سے نجات دے کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری، میٹھی میٹھی زلفیں رکھنے والی  ’’ مدنی سوچ ‘‘  عطا فرما۔ 

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭…٭…٭

مریض کی عیادت کے مدنی پھول

جب ہمارا کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو ہمیں وقت نکال کر اس اسلامی بھائی کی عیادت کے لئے ضرور جانا چاہیے کہ کسی مسلمان کی عیادت کرنا بھی بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سلطانِ بحروبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ  یہ الفاظ کہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اسے اس مرض سے عافیت عطا فرمائے گا:  اَسْئَلُ اللّٰهَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَكَ۔ یعنی میں عظمت والے،



[1]    موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،   کتاب الصمت وآداب اللسان،   ۷ / ۲۰۴،   حديث: ۳۲۵

[2]    شمائل محمدیۃ،    باب ماجاء فی شعر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم،   ص ۳۷،   حدیث: ۲۸

[3]    المرجع السابق،   ص ۳۵،   حدیث: ۲۵

[4]    المرجع السابق،   ص ۳۴،   حدیث: ۲۴

[5]    بهار ِشريعت،   حجامت بنوانا اور ناخن ترشوانا،   ۳ / ۵۸۷ ماخوذاً

[6]    مدنی مشورہ: چھوٹے مدنی منوں کا حَلْق کرواتے (یعنی سر مُنڈواتے) رَہنا بھی مناسِب ہے اور اگر سنّت کی نیّت سے زلفیں رکھنی ہوں تو آدھے کان سے زائد نہ رکھیں۔  



Total Pages: 146

Go To