Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

سوال …:                     سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اندازِ گفتگو کے متعلق کچھ بتائیے۔

جواب …:                       سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گفتگو اس طرح دل نشین انداز میں ٹھہر ٹھہر کر فرماتے کہ سننے والا آسانی سے یاد کر لیتا۔ جیسا کہ اُم المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے اور ہر سننے والا اسے یاد کر لیتا تھا۔)[1](

سوال …:                    بات چیت کے دوران کن امور کا خیال رکھنا چاہئے؟

جواب …:                      بات چیت کے دوران درج ذیل مدنی پھولوں کا خیال رکھنا چاہئے:

٭…  مسکراکراور خندہ پیشانی سے بات چیت كيجئے۔

٭…  چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ اور بڑوں کے ساتھ مؤدبانہ لہجہ رکھئے اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  دونوں کے نزدیک آپ معزز رہیں گے۔

٭…  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:  جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اسے کم گوئی اور دنیا سے بے رغبتی کی نعمت عطا فرمائی ہے تو اس کے پاس ضرور بیٹھو کیونکہ اس پر حکمت کا نزول ہوتاہے۔)[2](

٭…  حدیث ِ پاک میں ہے ’’ جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔ ‘‘ )[3](

٭…  کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصد بھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے جیسا کہ کہا جاتا ہے:  کَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِھِمْ۔ یعنی لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کرو۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایسی باتیں نہ کی جائیں جو دوسروں کی سمجھ میں نہ آئیں ۔ الفاظ بھی سادہ صاف صاف ہوں ، مشکل ترین الفاظ بھی استعمال نہ کیے جائیں کہ اس طرح اگلے پر آپ کی علمیت کی دھاک تو بیٹھ جائے گی مگر اسے یہ سمجھ میں نہ آئے گا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔

سوال …:                      بات چیت کے دوران کن امور سے بچنا چاہئے؟

جواب …:                        بات چیت کے دوران درج ذیل امور سے بچنا چاہئے:

٭…  چلّاچلّاکر بات کرنا جیسا کہ آج کل بے تکلفی میں دوست آپس میں کرتے ہیں معيوب ہے ۔

٭…  دورانِ گفتگو ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی دینا ٹھیک نہیں ۔

٭…  دوسرے کے سامنے بار بار ناک یا کان میں انگلی ڈالنا، تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ۔ اس سے دوسروں کو گھن آتی ہے۔

٭…  جب تک دوسرا بات کررہا ہو، اطمینان سے سنیں ، اس کی بات کاٹ کر اپنی بات نہ شروع کر دیں ۔

٭…  کوئی ہکلا کر بات کرتا ہو تو اس کی نقل نہ اتاریں کہ اس سے اس کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔

٭…  زیادہ باتیں کرنے اور باربار قہقہہ لگانے سے وقار مجروح ہوتا ہے۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا۔)[4](

٭…  زبان کو ہمیشہ بُری باتوں سے روکے رکھیں کیونکہ زبان کے صحیح یا غلط استعمال کا جو کچھ فائدہ و نقصان ہوتا ہے وہ سارے جسم کو ہوتا ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے اعضاء جھک کر زبان سے کہتے ہیں :  ہمارے بارے میں اللہ تعالٰی سے ڈر!  اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔)[5](

٭…  آپس میں ہنسی مذاق کی عادت کبھی مہنگی بھی پڑ جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز فرماتے ہیں کہ آپس میں ٹھٹھا مذاق مت کیا کرو اس طرح (ہنسی ہنسی میں ) دلوں میں نفرت بیٹھ جاتی ہے اور برے افعال کی بنیادیں دلوں میں استوار ہو جاتی ہیں)[6](

٭…  بدزبانی اور بے حیائی کی باتوں سے ہر وقت پرہیز کریں ، گالی گلوچ سے اجتناب کرتے رہیں اور یاد رکھیں کہ اپنے بھائی کو گالی دینا حرام ہے )[7](اور بے حیائی کی بات کرنے والے بدنصیب پر جنت حرام ہے حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اس شخص پر جنت حرام ہے جو فحش گوئی (یعنی بے حیائی کی بات) سے کام لیتا



[1]    مسند احمد،   ۱۰ / ۱۱۵،   حدیث: ۲۶۲۶۹

[2]    ابن ماجہ،  کتاب الزھد ،  باب الزھد فی الدنیا،   ۴ / ۴۲۲،   حدیث: ۴۱۰۱

[3]    ترمذی ،  کتاب صفۃ القیامۃ،   باب ۵۰،   ۴ / ۲۲۵،   حدیث۲۵۰۹

[4]    وسائل الوصول،   الباب الثانی،   الفصل الثامن،   ص ۹۳

[5]    مسند احمد،   ۴ / ۱۹۰،   حدیث: ۱۱۹۰۸

[6]    کیمیائے سعادت ،  رکن سوم مہلکات ،  باب پیداکردن ثواب خاموشی،   ۲ / ۵۶۳

[7]    فتاوی رضویہ،   ۲۱ / ۱۲۷ ماخوذاً



Total Pages: 146

Go To