Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

ماننا دونوں باتیں ضَروریاتِ دین میں سے ہیں ۔

ضَروریاتِ دین

سوال …:                      ضَروریاتِ دین کسے کہتے ہیں ؟

جواب …:  ضَروریاتِ دِین  سے مراد اسلام کے وہ اَحکام ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں ، جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ایک ہونا، اَنبِیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی نبُوَّت، نَماز، روزے، حج، جنت، دوزخ، قِیامت میں اُٹھایا جانا، حساب و کتاب لینا وغیرہ۔ مثلاً یہ عقیدہ رکھنا (بھی ضروریاتِ دین میں سے ہے) کہ حُضُور رحمۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ’’ خاتَمُ النَّبِیِّین ‘‘  ہیں ، حُضُورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

سوال …:   ہر خاص و عام سے کیا مراد ہے؟

جواب …:   خاص سے مراد عُلَما اور عام سے مراد عوام ہیں یعنی وہ مُسلمان جو عُلَما کے طبقہ میں شُمار نہ کئے جاتے ہوں مگر عُلَما کی صُحبت میں بیٹھنے والے ہوں اور عِلمی مسائل کا ذَوق رکھتے ہوں ۔ وہ لوگ مُراد نہیں جو دُور دراز جنگلوں پہاڑوں میں رہنے والے ہوں جنہیں صحیح کَلِمہ پڑھنا بھی نہ آتا ہو کہ ایسے لوگوں کا ضَروریاتِ دین سے ناواقِف ہونا اِس دینی ضَروری کو غیرضَروری نہ کر دے گا۔ البتّہ!  ایسے لوگوں کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضَروری ہے کہ ضَروریاتِ دین کے مُنکِر (یعنی انکار کرنے والے) نہ ہوں اور یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے۔ ان سب پر اِجمالاً ایمان لائے ہوں۔)[1]( 

سوال …:                     ضروریاتِ دین کے منکر کا حکم کیا ہے؟

جواب …:                        ضروریاتِ دین کا منکر بلکہ ان میں ادنیٰ شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔ )[2](

ضَروریاتِ مذہبِ اہلِ سُنّت

سوال …:                     ضَروریاتِ مذہبِ اہلِ سُنّت سے کیا مراد ہے؟

جواب …:             ضَروریاتِ مذہبِ اہلسنّت سے مراد یہ ہے کہ ان کا مذہبِ اہلسنّت سے ہونا سب عوام و خواصِ اہلسنّت کو معلوم ہو۔ جیسے عذابِ قبر ، اعمال کا وزن وغیرہ۔)[3](

سوال …:                     ضروریاتِ مذہبِ اہل سنت کے منکر کا حکم کیا ہے؟

جواب …:                        ضروریاتِ مذہبِ اہل سنت کا منکر بدمذہب گمراہ ہوتا ہے۔)[4](

شِرک

سوال …:                    شرک کے کیا معنی ہیں ؟

جواب …:                                         شرک کا معنی ہے:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کسی کو واجِبُ الوُجُود یا مستحقِ عبادت (کسی کو عبادت کے لائق) جاننا یعنی اُلُوہِیَّت (شانِ خداوندی) میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بد ترین قسم ہے۔ اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں ۔ )[5](

واجِبُ الوُجُود

سوال …:                    واجِبُ الوُجُود سے کیا مراد ہے؟

جواب …:                                         واجِبُ الوُجُود ایسی ذات کو کہتے ہیں جس کا وُجود (یعنی  ’’ ہونا ‘‘ ) ضَروری اور عَدَم مُحال (یعنی نہ ہونا غیر ممکن) ہے یعنی (وہ ذات) ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی،جس کو کبھی فنا نہیں ، کسی نے اس کو پیدا نہیں کیا بلکہ اسی نے سب کو پیدا کیا ہے۔ جو خود اپنے آپ سے موجود ہے اور یہ صرف اللہ تعالٰی کی ذات ہے۔  )[6](

نِفاق

سوال …:  نِفاق کی کیا تعریف ہے؟

جواب …:  زَبان سے اسلام کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نِفاق ہے۔ یہ بھی خالِص کُفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنَّم کا سب سے نِچلاطبقہ ہے۔سرورِ



[1]     بہارِ شریعت،   ایمان و کفر کا بیان،   ۱ / ۱۷۲ بتغیر

[2]     فتاویٰ رضویہ جدید،   ۲۹ / ۴۱۳

[3]     نزھۃُ القاری شرح صحیح البخاری،   کتاب الایمان،   ۱ / ۲۳۹

[4]     فتاویٰ رضویہ جدید،   ۲۹ / ۴۱۴

[5]     بہارِ شریعت،   ایمان و کفر کا بیان،   ۱ / ۱۸۳ بتغیر

[6]     ہمارا اسلام،   باب اول،   حصّہ سوم،   ص ۹۵



Total Pages: 146

Go To