Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

(4)… عمامہ اتارتے وقت بھی ایک ایک پیچ کھولنا چاہیے۔

اے ہمارے پیارے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  ہمیں عمامہ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭…٭…٭

مہمان نوازی کے مدنی پھول

مہمان نوازی بڑی ہی پیاری سنت ہے۔چنانچہ،

٭…  حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں خیر وبرکت اس طرح دوڑتی ہے جیسے چھری اونٹ کی کوہان پر، بلکہ اس سے بھی تیز۔ ‘‘ )[1](  

٭…  مہمان آتا ہے تو اپنا رزق لے کر آتا ہے اور جاتا ہے تو میزبان کے لئے گناہ معاف ہونے کا سبب ہوتاہے ۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ جب کوئی مہمان کسی کے یہاں آتاہے تو اپنا رزق لے کر آتاہے اور جب اس کے یہاں سے جاتاہے تو صاحب ِ خانہ کے گناہ بخشے جانے کا سبب ہوتاہے۔ ‘‘  )[2](

٭ 10فرشتے سال بھر گھرمیں رحمت لٹاتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا براء بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:  اے براء!  آدمی جب اپنے بھائی کی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے لئے مہمانی کرتا ہے اور اس کی کوئی جزا اور شکریہ نہیں چاہتا تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کے گھر میں دس فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو پورے ایک سال تک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر پڑھتے ہیں اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور جب سال پورا ہو جاتا ہے تو ان فرشتوں کی پورے سال کی عبادت کے برابر اس کے نامۂ اعمال میں عبادت لکھ دی جاتی ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کو جنت کی لذیذ غذائیں جَنَّۃُ الْخُلْد اور نہ فنا ہونے والی بادشاہی میں کھلائے۔)[3](

٭…  مہمان کو دروازے تک رخصت کرنا سنت ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ سنت یہ ہے کہ آدمی مہمان کو دروازے تک رخصت کرنے جائے۔ ‘‘ )[4](

اے ہمارے پیارے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  ہمیں مہمان کی خوش دِلی کے ساتھ مہمان نوازی کی توفیق عطا فرما اور بار بار میٹھے میٹھے مدینے کی مہکی مہکی فضاؤں میں میٹھے میٹھے مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مہمان بننے کی سعادت بھی نصیب فرما۔        اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭…٭…٭

چلنے کی سنتیں اور آداب

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حیاتِ طیبہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ چنانچہ مسلمان کی چال بھی امتیازی ہونی چاہیے۔ گر یبان کھول کر ، گلے میں زنجیر سجائے، سینہ تان کر، قدم پچھاڑتے ہوئے چلنا احمقوں اور مغروروں کی چال ہے۔ مسلمانوں کو درمیانہ اور پُر وقار طریقے پر چلنا چاہیے۔چنانچہ،

٭…  لفنگوں کی طرح گریبان کھول کر اکڑتے ہوئے ہرگز نہ چلیں کہ یہ احمقوں اور مغروروں کی چال ہے بلکہ نیچی نظریں کئے پروقار طریقے پر چلیں ۔ حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چلتے تو جھکے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ )[5](

٭…  راہ چلنے میں پریشان نظری سے بچیں اور سڑک عبور کرتے وقت گاڑیوں والی سمت دیکھ کر سڑک عبور کریں ۔ اگر گاڑی آرہی ہو تو بے تحاشا بھاگ نہ پڑیں بلکہ رُک جائیں کہ اس میں حفاظت کا زیادہ امکان ہے۔

٭…  راستے میں اِدھر اُدھرنہ جھانکیں بلکہ سرجھکاکرشریفانہ چلیں ۔

٭٭٭

سورۂ نجم کی فضیلت

 



[1]    ابن ماجه،   كتاب الاطعمة،   باب الضيافة،   ۴ / ۵۱،   حديث : ۳۳۵۶

[2]    فردوس الاخبار،   ۲ / ۴۱،   حدیث: ۳۷۱۱

[3]    كنزالعمال،   كتاب الضيافة،   الجزء التاسع،   ۵ / ۱۱۹،   حديث:۲۵۹۷۲

[4]    ابن ماجہ،   کتاب الاطعمۃ ، باب الضیافۃ،   ۴ / ۵۲،   حدیث: ۳۳۵۸

[5]    ابو داود،  کتاب الادب،  باب فی ھدی الرجل،   ۴ / ۳۴۹،   حدیث: ۴۸۶۳



Total Pages: 146

Go To