Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

رحمت ہی رحمت ہے۔ چنانچہ، مروی ہے کہ حضرت سیدنا اُسَید بن حُضَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک رات سورۂ بقرہ کی تلاوت فرما رہے تھے کہ یکایک قریب ہی بندھا ہوا آپ کا گھوڑا بدکنے یعنی اچھلنے کودنے لگا۔ آپ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا، آپ نے پھر پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا بھی دوبارہ اچھلنے کودنے لگا، آپ پھر خاموش ہو گئے، اس طرح جب آپ پڑھنے لگتے تو گھوڑے کی اچھل کود دیکھ کر پھر خاموش ہو جاتے کیونکہ آپ کے صاحبزادے حضرت یحییٰ گھوڑے کے قریب ہی سو رہے تھے، اس لئے آپ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا بچے کو تکلیف نہ پہنچائے۔ چنانچہ جب آپ نے صحن میں آکر آسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ بادل کی طرح کوئی چیز ہے جس میں بہت سی قندیلیں (چراغ) روشن ہیں ۔ آپ نے صبح کو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کیا تو رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تیری قراءت کی و جہ سے آسمان سے تیرے مکان کی طرف اتر پڑی تھی اگر تو صبح تک تلاوت کرتا رہتا تو یہ فرشتے زمین سے اس قدر قریب ہوجاتے کہ تمام انسانوں کو ان کا دیدارہوجاتا۔)[1](

بزرگانِ دین اور تلاوتِ قرآن

        پیارے مدنی منو!  بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن تلاوتِ قرآن پاک میں بہت دلچسپی رکھتے تھے بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن روزانہ چار، بعض دو اور بعض ایک قرآنِ پاک ختم فرماتے۔ اسی طرح بعض حضرات دو دن میں ایک قرآنِ پاک ختم فرماتے، بعض تین دن میں ، بعض پانچ دن میں اور بعض سات دن میں اور سات دن میں قرآنِ پاک ختم کرنا اکثر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول تھا، لہٰذا آپ بھی جتنا ممکن ہو تلاوتِ قرآن پاک کو اپنا معمول بنا لیجئے۔ نیز اپنے سبق کی تکرار بھی کرتے رہیے مگر ایک بات ذہن نشین رکھئے کہ جلدی پڑھنے کی کوشش میں غلط نہیں پڑھنا چاہیے کہ ثواب صحیح پڑھنے میں ہے نہ کہ محض جلدی پڑھنے میں ۔

والدین کی خوش بختی

پیارے مدنی منو!  جس طرح آپ خوش نصیب ہیں کہ قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اسی طرح آپ کے والدین بھی بڑے خوش قسمت ہیں کیونکہ وہ آپ کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ان کے لئے آپ ایک عظیم ثوابِ جاریہ کا سبب ہوں گے۔ چنانچہ،

قبرسے عذاب اُٹھ گیا

منقول ہے کہ حضرت سیدنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک قبر کے قریب سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ اس میت پر عذاب ہو رہا ہے۔ پھر جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا واپسی پر وہاں سے گزر ہوا تو ملاحظہ فرمایا کہ اس قبر میں نور ہی نور ہے اور وہاں رحمتِ الٰہی کی بارش ہو رہی ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام بہت حیران ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ مجھے اس کا بھید بتایا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:  اے روحُ اللہ!  یہ سخت گناہ گار اور بدکار تھا اس وجہ سے عذاب میں گرفتارتھا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے یہاں لڑکا پیدا ہوا اور آج اس کو مکتب میں بھیجا گیا، استاذ نے اس کو بِسْمِ اللّٰه شریف پڑھائی۔ مجھے حیا آئی کہ میں زمین کے اندر اس شخص کو عذاب دوں جس کا بچہ زمین کے اوپر میرا نام لے رہا ہے۔ )[2](

پیارے مدنی منو!  دیکھا آپ نے جس شخص کے بچے نے صرف بِسْمِ اللّٰه شریف پڑھی اور اِس کی برکت سے اُس کی بخشش ہو گئی تو جن خوش نصیب والدین کے بچوں نے پورے کلام اللہ کی تعلیم حاصل کی اور اس کے مطابق عمل کیا تو ان کی شان کس قدر بلند ہو گی۔ ایسے خوش نصیب والدین کو یقیناً کل بروزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج سے بھی زیادہ ہو گی۔چنانچہ،

بروزِ قیامت حافظ کے والدین کو تاج پہنایا جائے گا

حضرت سیِّدُنا معاذ جہنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:  جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا، اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس سورج سے اچھی ہو گی جو دنیا میں تمہارے گھروں کے اندر چمکتا ہے تو خود اس عمل کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے۔ )[3](

نیک اولاد صدقۂ جاریہ ہے

والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو قرآنِ پاک کی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ فرمائیں ، اس میں ان کا اپنا فائدہ ہے کہ نیک اولاد والدین کے لئے ثوابِ جاریہ ہوتی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو بچے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ والدین کا بہت ادب کرتے ہیں یہ معاملہ تو والدین کی حیات میں ہے ان کی وفات کے بعد بھی یہی بچے کام آتے ہیں کہ جب تک وہ تلاوتِ قرآنِ کریم کرتے رہیں گے اور نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے والدین کو اجروثواب ملتا رہے گا۔ اس کو اس مثال سے سمجھئے کہ اگر کسی شخص کے دو بچے ہوں ایک بچے کو اس نے فقط دنیوی تعلیم دِلا کر ڈاکٹر کی ڈگری دلائی، دوسرے کو پہلے حافظ قرآن بنایا، پھر دوسری تعلیم دلائی۔ والدین کے انتقال کے بعد ایصالِ ثواب کے لحاظ سے کون



[1]    مشکاۃ المصابيح،   كتاب فضائل القرآن،   ۱ / ۳۹۸،   حديث: ۲۱۱۶ ملخصاً

[2]    تفسير كبير،   الباب الحادی العشر،   النکت المستخرجۃ من البسملۃ،   ۱ / ۱۵۵

[3]    ابوداود،  کتاب الوتر،  باب فیِ ثواب قراءۃالقران،  ۲ / ۱۰۰،  حدیث:۱۴۵۳



Total Pages: 146

Go To