Book Name:Islam Ki Bunyadi Batain Part 03

میں جمع ہوکر باقاعدہ علم دین سیکھتے سکھاتے رہے اور نیکی کی دعوت عام کرتے رہے۔

پیارے مدنی منو!  دنیاوی ترقی کے ساتھ ساتھ جب روز بروز نت نئی ایجادات ہونے لگیں تو اکثر لوگ علم دین کے حصول کو چھوڑکر دنیاوی علوم وفنون سیکھنے سمجھنے اور اس کے ذریعے اپنی زندگی عیش و آرام کے ساتھ گزارنے کی جستجو میں لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں آج کا مسلمان علمِ دین کے حصول کے جذبے سے ناواقف اور کوسوں دور نظر آتاہے۔ اگر کچھ لوگ خوش قسمتی سے راہِ علم کے مسافر بن جاتے ہیں تو نفس و شیطان انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں کیونکہ جس طرح ہر قیمتی شے چوروں کے لئے کشش رکھتی ہے اسی طرح ہر اس شے پر شیطان کی خصوصی توجہ ہوتی ہے جو اخروی لحاظ سے قیمتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ راہِ علم پر چلنے والے مسلمان نفس وشیطان کی نگاہوں کا مرکز بن جاتے ہیں۔ راہِ علم کے مسافر یعنی طالب علم شیطان پر کس قدر بھاری ہیں اس کا اندازہ ان روایات سے لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!  ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔)[1]( اور حضرت سیدنا واثلہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اس عالم سے بڑھ کر شیطان کی کمر توڑکر رکھ دینے والی کوئی شے نہیں جو اپنے قبیلہ میں ظاہر ہو۔ ‘‘  )[2](

پیارے مدنی منو!  شیطان ہر سمت سے طالب علم پر مسلسل حملہ آور ہوتا رہتا ہے اور اسے اُخروی سعادت سے محروم کروا دینے کو اپنی کامیابی تصور کرتا ہے۔ اس سلسلے میں شیطان کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس راہِ عظیم کا مسافر نہ بن پائے اور اگر کوئی بننے میں کامیاب ہو بھی جائے تو یہ اس طالب علم کو نیت کی خرابی، مایوسی، خود پسندی، تکبر، سستی اور لالچ جیسی ہلاکتوں میں مبتلا کر کے اسے علمِ دین کے ثمرات سے محروم کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، لہٰذا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں دعاہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں شیطان کے مکر و فریب سے محفوظ فرمائے اور اپنے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے نقش قدم پر چل کر علم دین حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭…٭…٭

تِلاوتِ قرآن مجید

قرآنِ مجید اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا پیارا کلام ہے۔ اس کی تلاوت کرنا بہت بڑا ثواب ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  زمین والوں پر عذاب کرنے کا ارادہ فرماتا ہے لیکن جب بچّوں کو قرآنِ پاک پڑھتے سنتا ہے تو عذاب روک لیتا ہے۔ )[3](

ہو کرم اللہ!  حافِظ مدنی مُنّوں کے طفیل

جگمگاتے گنبد خضرا کی کرنوں کے طفیل

پیارے مدنی منو! آپ سب بہت خوش نصیب ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے پاک کلام قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ بہت سارے بچے ایسے بھی ہیں جو گلی کوچوں میں آوارہ گھومتے ہیں اور قرآنِ پاک کی تعلیم سے محروم ہیں ، ایسے بچوں کو فلمی گانے تو یاد ہوتے ہیں ، انگلش نظمیں بھی ازبر ہوتی ہیں مگر افسوس!  قرآنِ پاک کی کوئی سورت یاد نہیں ہوتی۔دعا کیجئے کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  انہیں بھی قرآنِ مجید کے نور سے منور فرمائے۔ اٰمین

شیطان کے وار

بسا اوقات شیطان مدنی منوں کو قرآنِ پاک کی تعلیم سے روکنے کے لئے کھیل کود میں لگا دیتا ہے، آپ اس کی باتوں میں نہ آئیے۔ یاد رکھئے!  ہم دنیا میں کھیل تماشوں کے لئے نہیں آئے، لہٰذا کھیل کود میں وقت برباد کرنے کے بجائے بھرپور توجہ کے ساتھ قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کیجئے۔اسی طرح شیطان مدنی منوں کا دل قرآنِ پاک کی تعلیم سے اچاٹ کرنے کے لئے دل میں یوں وسوسے ڈالتا ہے کہ یہ کیاہے کہ تم سارا دن  ’’  ا ، ب ، ت  ‘‘  پڑھتے رہتے ہو؟ جب کبھی آپ کو ایسے وسوسے آئیں تو ان وسوسوں کو فوراً جھٹک دیجئے کیونکہ شیطان یوں ہمیں نیکیوں سے روکنا چاہتا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہمارے میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:   ’’ جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے اس کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ  ’’ الم ‘‘  ایک حرف ہے بلکہ  ’’ الف ‘‘  ایک حرف  ’’ لام ‘‘  ایک حرف اور  ’’ میم ‘‘  ایک حرف ہے۔ ‘‘ )[4](

روشن قندیلیں

قرآنِ پاک کو جتنی بار بھی پڑھا جائے ثواب ہی ثواب ہے، لہٰذا مدرسہ میں پڑھنے کے علاوہ گھر میں بھی سبق یاد کرنے اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام فرمانا چاہیے کہ اس میں ہمارے لیے



[1]    کنزالعمال،   کتاب العلم،   الجزء العاشر،   ۵ / ۷۶،   حدیث: ۲۸۹۰۴

[2]    کنزالعمال،   کتاب العلم،   الجزء العاشر،   ۵ / ۶۴،   حدیث: ۲۸۷۵۱

[3]    دارمی،   کتاب فضائل القرآن،   باب فی تعاھد القرآن،   ۲ / ۵۳۰ ، حدیث: ۳۳۴۵

[4]    ترمذی،   كتاب فضائل القران،   باب ماجاء فی من قرا حرفا...الخ ، ۴ / ۴۱۷،   حديث: ۲۹۱۹



Total Pages: 146

Go To