Book Name:Faizan e Usman Marwandi Lal Shahbaz Qalandar

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                         

        اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                      

                                                                                               

فیضانِ عثمان مروندی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ

دُرُود شریف کی فضیلت

امیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے  رسالے  ”پراسرار بھکاری“ میں بحوالہ فِردَوسُ الاخبار دُرُود شریف کی فضیلت نقل فرماتے  ہیں :  سرکارِ مدینۂ منوّرہ، سردارِ مکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے : اے  لوگو ! بے  شک بروزِ قِیامت اس کی دَہشتوں اور حساب کتاب سے  جلد نَجات پانے  والا شخص وہ ہوگاجس نے  تم میں سے  مجھ پر دنیاکے اندر بکثرت دُرُودشریف پڑھے  ہوں گے ۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                             صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ساتویں صدی ہجری کی ایک دوپہر ڈھل رہی تھی کہ درویشوں کا ایک قافلہ مختلف علاقوں میں نیکی کی دعوت دیتا ہوا باب الاسلام سندھکے ایک علاقے  میں پہنچا۔ ان  دنوں باب الاسلام سندھ برائىوں اور بدکارىوں کى آماجگاہ تھا۔ ہر طرف گناہوں کا دور دورہ تھا۔ اس علاقے  میں خاص طور پر کفر و شرک اور فحاشی وبدکاری عام تھی۔بعض علاقے  تو ایسے  تھے  کہ جہاں مسلمانوں کی تعداد آٹے  میں نمککے برابر تھی۔دینی معلومات نہ ہونے کے باعث لوگ زندگىکے ہر شعبے  مىں بے  راہ روى اور معاشرتى برائىوں کا شکار تھے ۔ لوگوں کى اَخلاقى حالت اَبتر تھی اسی وجہ سے  جگہ جگہ ”برائی کے اڈے “ قائم تھے ۔ درویشوں کا یہ قافلہ ايك  ایسے  محلے  میں ٹھہرا جہاں  ہر طرف چہل پہل تھی ۔شام ڈھلتے  ہی چراغ روشن ہونے  لگے ، شام نے  رات کا لبادہ اوڑھا تو گانے  بجنے  لگے ، عورتیں سرِعام  گناہ کی دعوت  دینے  لگیں ، اوباش نوجوان گناہوں کے بھنور کی طرف کھنچتے  چلے  جارہے  تھے ۔ یادِ الہی میں مگن درویش یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوئے  اور اپنے  اميرِ قافلہ سے  عرض کرنے  لگے  :  حضور! یہاں قیام کرنا ہمارے  لیے  مناسب نہیں ، کہیں اور چلتے  ہیں یہ تو بہت ہی بُری جگہ ہے  ۔امیرِقافلہ نے  فرمایا :  ہم یہاں اپنی مرضی سے  نہیں آئے  بلکہ بھیجے  گئے  ہیں ۔ امیرِقافلہ کا جواب سُن کر درویش مطمئن ہو گئے ۔جوں توں رات گزری ، صبح گناہوں کا بازار سرد پڑ چکا تھا۔ اگلی رات درویش یہ دیکھ کر حیران رہ گئے  کہ بازار میں کل جیسی  رونق نہ تھی۔ دوسری طرف برائیکے اڈوں پر بھی اوس پڑ چکی تھی، جو بھی آتا محلے  میں داخل ہوتے  ہی الٹے  پاؤں واپس لوٹ جاتا ۔اب تو یہ معمول ہی بن گیا، بازار کی رونقیں ختم ہونے  لگیں ۔ ایک دن ساری عورتیں  جمع ہوئیں اور کہنے  لگیں : جس دن سے  یہ درویش یہاں آئے  ہیں ہمارا تو  کاروبار ہی ٹھپ ہو گیا ہے ۔ انہیں  یہاں سے  نکالو ورنہ ہم  تو بھوکے  مر جائیں گے ۔ چنانچہ وہ ان درویشوں کے پاس آئیں اور کہا : بابا ”آپ  صوفی لوگ ہیں یہاں آپ کا کیا کام ، یہ گناہوں کی جگہ ہے ، یہاں سے  چلے  جائیں آپ کی وجہ سے  ہمارا کام بند ہو رہا ہے “۔ درویشوں کے امیرِ قافلہ نے  فرمایا : ’’ہم یہاں جانے کے لیے  نہیں آئے ، اب تو ہمارا مزار بھی یہیں بنے  گا۔  البتہ اگر تمہیں کوئی مسئلہ ہے  تو تم یہاں سے  چلی جاؤ ۔‘‘امیرِ قافلہ  کا  جواب سن کر انہیں پریشانی لاحق ہوگئی۔ چونکہ بڑے  بڑے  زمىندار اور رؤسا یہاں تک کہ خود راجہ بھی ان گناہوں میں شریک تھا لہذا انہوں نے  راجہ کو شکایت کر دی۔ راجہ نے  اپنے  سپاہیوں سے  کہا :  درویشوں سے  کہو یہاں سے  چلے  جائیں ورنہ  انہیں زبردستی نکال دیا جائے  گا۔ راجہ کا حکم پاتے  ہی سپاہی درویشوں کے قافلے  کی طرف روانہ ہوئے  ابھی قریب بھی نہ پہنچے  تھے  کہ اچانک انکے پاؤں زمین نے  پکڑ لیے ۔ سپاہیوں نے  قدم اٹھانے کے لیے   بہت جتن کیے  مگر بے  سود۔ انہوں نے  واپس پلٹنے  کی کوشش کی تو زمین نے  پاؤں چھوڑ دیے ۔ سپاہی گھبرا کر واپس لوٹ گئے ۔ وہ عورتیں  حیرت میں ڈوبی  یہ منظر دیکھ رہی تھیں انکے دل کی دنیا زیروزبر ہوگئی اور وہ  دلی طور پر  اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی معتقد ہوچکی تھیں ، بے  ساختہ اس بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (جو کہ اس قافلے کے امیر بھی تھے  )کے قدموں میں گر کر تائب ہوگئیں اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگئیں ۔ ان کی دیکھا دیکھی مرد بھی ان بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے دستِ حق پرست پر تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔ ([2])    اللہ          عَزَّ  وَجَلَّ     کی اُن پر رحمت ہواور اُنکے صدقے  ہماری  بے  حساب مغفرت ہو۔

 



[1]     فردوس الاخبار، ۲/ ۴۷۱، حدیث : ۸۲۱۰

[2]           اللہ کے  ولی ، ص۳۴۰، اللہ کے  خاص بندے عبدہ، ص۵۳۳، شانِ قلندر، ص۲۸۸ بتصرف



Total Pages: 11

Go To