Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

عموماً اىک وقت کی غذا تھوڑا سا  سالن اور ایک چپاتی ہوتی ،  جسے  خوب چبا کر کھاتے اور فرماىا کرتے کہ کھانا خوب چبا کر کھاؤ،  دانتوں کا کام معدے سے نہ لو،  معمول کے بغىر تناول نہ فرماتے ىہى وجہ ہے پىٹ کبھى خراب نہ ہوا۔کھانے کے درمىان میں پانی پىتے اگرکھانے کے بعد پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو بعد میں سادہ لقمہ ضرور تناول فرماتے ، کبھى کبھار  چائے سے بھی لطف اندوز ہوتے ۔ٹھنڈا پانی شوق سے نوش فرماتے یہاں تک کہ سردىوں مىں صراحى رات کو باہر صحن مىں رکھواتے اورپھر اسى پانى کو پیا کرتے ، سردىوں مىں گنے کا رس مرغوب تھا برتن نہاىت صاف استعمال فرماتے۔بارش مىں بڑے شوق سے نہاتے حتى کہ اگر سردىوں مىں رات کو بارش ہوتى تو بھی نہالىتے۔خرىدو فروخت کے لىے بازار کبھى نہ جاتے۔ آپ  کى نشست دوزانو ىاآلتی پالتی  ہوتى۔ گرمىوں مىں بغىر بچھونے کے چار پائى پر لىٹتے،  ىہ چار پائى عموما مُونج (مخصوص قسم کی گھا س کی بٹی ہوئی رسی)  کى ہوتى تھى،  سردىوں مىں رات کو کمرے کى کھڑکىاں کھول کر سوتےاور لحاف سىنے تک رکھتے ،  گھڑی کلائی پر باندھتے  نہ جیب میں رکھتے اور نہ ہی کمرے مىں ہوتى اس کے باوجود ہر کام مقررہ وقت پر ادا کرتے اور فرماىا کرتے کہ زندگى کے امور کے لىے اوقات متعىن کرلو اور پھر ان پر عمل کرو۔

اخبار بىنى نہ کرتے اگر کسى خاص وجہ سے اخبار دىکھنا ہوتا تو پہلےاس  پر موجود جاندار تصاوىر کو سىاہى پھىر کر مسخ کروالىتے، لکھنے مىں بالعموم سىاہ روشنائى استعمال کرتے ، لکھتے وقت کاغذ کسی کتاب پر نہ رکھتے ،  کارڈ وغىرہ ہوتا تو عموماً ہاتھ پر رکھ کرلکھ لىتے۔ جوتا پہننے،  اتارنے،  مسجد مىں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کے آداب کا خود بڑا لحاظ رکھتے اور دوسروں کو بھى ان کى پابندى کى تاکىد فرماتے۔ گفتگو مىں اکثر نعم (جی ہاں)  اور طَىب (بہت خوب)  استعمال کرتے،  جس سے کلام کا لطف دوبالا ہوجاتا۔ سوارى پر سوار ہوتےوقت اللہ اَکۡبَر کہتے اور دعائے ماثورہ پڑھتے اور جب اترتے تو سُبْحٰنَ اللہ کہتے ، دینی اجتماعات میں شرکت کے لئے دوسرے شہر تشریف لے جاتے تووہاں مزارات اولیا پر حاضرى دیاکرتے جبکہ  بعض مزارات کى طرف بطور ِ خاص زىارت کى نىت سے بھی سفر فرماتےاوراخراجات خود اٹھاتے اگر کوئی پیش  کرنا بھی چاہتا تو قبول نہ فرماتے نیز حاضری کے وقت باادب کھڑے رہتے اور ایصال ِثواب کرتے،  صاحبِ مزار سے اسى طرح عرض و معروض اور گفتگو ہوتى جس طرح کسى زندہ  انسان سے ہوتی ۔ طلبہ اور علماملاقات کے لئے حاضر ہوتے تو انہیں  بڑى فراخ دستى سے تحائف  عطا فرماتے۔ ([1])

خود داری

برِصغىر پاک و ہند کے دور دراز علاقوں مىں بیانات  کے لىے تشرىف لے جاناہوتا تو یہ نہیں سوچتے  کہ وہاں جانا کتنا مشکل ہےبلکہ ىہى مدنظررکھتے  کہ وہاں جانا کتنا اہم ہےاور نہ یہ  کہتے کہ مىرے لىےسوارى کا بندوبست کردو ىا زادِراہ دے  دوبلکہ اپنا اور ساتھ سفر کرنے والے طالب علم کا کرایہ اکثرخود ادا کرتےاورجس جگہ پہنچنے کا وعدہ فرمالىتے وہاں لازمى طور پر پہنچتے،  وعدہ فرما کر ىا ذمہ دارى قبول کرکے نہ پہنچنے کى مثال آپ کى پورى زندگى مىں نہىں ملتى۔

قافلوں میں سفر کی ہو کثرت               ہم سے یوں دین کی لے لے خدمت

عاجزانہ الٰہی دعا ہے                 یا خدا تجھ سے میری دعا ہے ([2])

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سفر میں بھی نماز باجماعت کا اہتمام

دورانِ سفر نماز کے اوقات کا خاص خىال رکھتے،  جہاں بھى نماز کا وقت ہوجاتا سوارى سے اتر کر باجماعت نماز ادا کرتے اور پھر سفر جارى فرمادىتے، عموماًزادِ راہ لوٹا مصلی ، چادر ، شیروانی وغیرہ ہوتا،  اس دوران بھى اپنے ہم سفروں سے دىنى مسائل ہى پر تبادلہ خىال ہوتا،  جہاں  وقت مىسر آتا قصىدہ بردہ



[1]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ / ۲۸۲ تا ۲۸۳ملخصاًوغیرہ

[2]     وسائل بخشش، ص۱۳۸



Total Pages: 22

Go To