Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

محدثِ اعظم پاکستان اور عمامہ و چادر  

محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاندورانِ تدریس اور اوقات ِنماز میں عام طور پر عمامہ شریف باندھا کرتے تھے جبکہ جمعہ کےدن خصوصی اہتمام کے ساتھ عمامہ باندھتے جوعموماًنسواری رنگ کا اورکبھی سفید یا زرد رنگ کا ہوتا خاص تقاریب ،  خطبۂ جمعہ وعیدین کے لئے عمامہ پر سفید ململ کا لمبا چادر نما پٹکا بھی اوڑھا کرتے جو چہرہ مبارک کے ماسوا سر اور گردن پر لپیٹا ہوتا۔

مُفَسّرِقرآن حضرت علامہ مولانا محمد جلال الدّین قادریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں کہ حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان  کے سر ِاَقدس اور گردن پر یوں چادر رکھنے کے انداز کو میں آج تک ایک خاص ادا سمجھتا رہا حسنِ اتفاق سے ایک حدیثِ پاک نظر نواز ہوئی ’’اَ لْاِرْتِدَاءُ لُبْسَةُ الْعَرَبِ وَالْاِلْتِفَاعُ لُبْسَةُالْاِیْمَانِ‘‘ ([1])  ترجمہ و تفھیم :چادر اوڑھنا عربوں کا لباس ہے اور سر اور اکثر  چہرے کو  (چادر سے)  ڈھانکنا ایمان والوں کا لباس ہے۔مزید فرماتے ہیں: حدیثِ پاک کے مطالعہ کے بعد یہ واضح ہوا کہ مذکورہ انداز میں آپ کا چادر نما پٹکا رکھنانہ  صرف آپ کی ادا تھی بلکہ حدیث  ِپاک پر عمل بھی تھا ۔ سُبْحٰنَ اللہ !  کیسی پاکیزہ سیرت تھی،  جو پہناوے کے ادنیٰ سے حصے میں بھی سنّتِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ([2])  

میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ اولیائے کرام اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  اپنےہر ہر عمل میں سنّتِ مصطفٰے اور ادائے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ شیخ طریقت،  امیرِ اہلسنت،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی سیرت پر نظر دوڑائیں تومذکورہ حدیثِ پاک پرعمل نظر آتا ہے کہ سرمبارک پر مستقل عمامہ کا تاج اس پر سفید  چادر کا راج آپ دَامَتْ  بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شخصیت کو مزید نکھار دیتا ہے۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے مریدین اور متعلقین اسلامی بھائیوں  کو بھی اس کی تلقین فرماتے ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ترغیب سے  بے شمار اسلامی بھائی  نہ صرف اپنے سروں  پر عمامہ شریف کا تاج سجاچکے ہیں بلکہ سفید چادر کو بھی لباس کا حصہ بناکر اپنی  زندگیوں  کو  سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے میں مصروف ہیں۔ 

اعلٰی حضرت کا سبز عمامہ  محدثِ اعظم  کے سرِانور پر  

مُفَسّرِ قرآن حضرت علامہ مفتی محمد جلالُ الدین قادریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں: حضرت سیّد قناعت علی قادریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیایک مدت تک حضور اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکی خدمت گاری کے فرائض سرانجام دیتے رہے ان کے پاس اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ  کا ایک استعمال شدہ سبز رنگ والا عمامہ تھا۔ سید قناعت علیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک عرس کے موقعہ پر لائل پور حاضر ہوئے تو اپنے ساتھ وہ عمامہ شریف بھی لائے اور محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے حضور پیش کیا ۔اور یوں عرض گزار ہوئے: حضور ! وعدہ کیجئے کہ کل بروزِ قیامت جب آپ جنت میں داخل ہوں گے ،  فقیر کو نہ بھولیں گے۔ یہ سن کر محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان آبدیدہ ہو گئے  اور فرمایا: جنت میں داخلہ تو آپ کے نانا پاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے طفیل ہی ملے گااور پھر یہ کہ آپ حضور اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ کی زیارت اور خدمت سے مُشَرَّف ہیں ۔ خود آپ کا تعلق جس گھرانے سے ہے اسی کے صدقے سب کو جنّت میں داخلہ نصیب ہو گا۔ ایک جانب سے درخواست  پراصرار جاری رہا تو دوسری جانب سے انہی جملوں کی تکرار ہوتی رہی جبکہ یہ روح پرورمنظر حاضرین کے لئے بڑی رِقّت کا باعث بنا۔ پھر محدّثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے اعلی حضرت کا سبز رنگ والا عمامہ شریف اپنے سرِ انور پر سجایا ۔ ([3])

صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ادب

 



[1]     رواہ طبرانی عن ابن عمربحوالہ جامع صغیر للسیوطی ، مطبوعہ مصر جلد ۱، ص۲۱۰

[2]     تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان ، ۲ / ۳۴۱، ملخصاً

[3]     تذکرہ محدّثِ اعظم پاکستان ، ۲  /  ۳۷۵، ملخصاً



Total Pages: 22

Go To