Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

اىک طالب علم حدىث شرىف کى عبارت پڑھتا،  متن کى تصحىح کرنے کے بعد آپ توضىح کا سلسلہ شروع فرماتے،  مشکل الفاظ کى تفسىر بىان ہوتى،  ترجمہ و تفہىم کے بعد اختلافی مسائل میں مطابقت پیدا فرماتے پھر مسائل اخذ کرتے ہوئے اشارہ وکنایہ کی بنیاد پر وضاحت کا بے انتہا دفتر کھل جاتا،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى تدرىس کے دوران ىوں محسوس ہوتا کہ قرآن و حدىث اور اقوالِ علما کھلی کتاب کی طرح آپ کے سامنے ہیں ،  شرحِ حدىث مىں توجہ  کا ىہ عالم ہوتا کہ چار پانچ گھنٹے مسلسل درس ہوتا لىکن کسى طالب علم کے چہرے پر تھکاوٹ ىا اکتاہٹ کا کوئى نشان نظر نہ آتا،  اَدب کی ىہ حالت تھی  کہ اگر دوران درس کسى وقت عمامہ کھل جاتا تو اختتام تک  کھلا ہى رہتا،  درس سےفارغ ہونے کے بعد اسے صحىح کرتے،  دوران ِدرس کسى بڑى  سے بڑى شخصىت سے بھی ملاقات نہ فرماتے ۔ ([1])

بغیر مطالعہ کبھی نہ پڑھایا

حضرت محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان وسعت ِمطالعہ اور مضبوط حافظہ کے باوجود مطالعہ کےبغیر کبھى نہ پڑھاتے،  اىک دفعہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی آنکھوں مىں بڑى تکلىف تھى،  ڈاکٹر نے ہر چند منع کىا کہ آپ آنکھوں پر زور نہ دىں،  اس بنا پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے چاہا کہ کچھ دن کے لىے کُتُب بىنى ترک کردىں،  مگر اىسا نہ کرسکےکیونکہ کتابىں سامنے ہوں،  فرصت بھی  ہو اور پھر مطالعہ نہ ہو،  یہ ممکن نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اکثر فرمایا کرتے: جس طرح تازہ روٹى اور تازہ سالن مزا دىتا ہے اسى طرح تازہ سبق اور تازہ مطالعہ مزىدار ہوتا ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فقیہ ِ عصرمفتی ابو سعیدمحمدامین  مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی اسی پختہ عادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئےفرماتے ہیں :آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  عام مُدَرِّسِین کی طرح نہ پڑھاتے کہ ایک کتاب جب دو تین بار پڑھالی تو اب مطالعہ کی ضرورت نہیں بلکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے سالہا سال حدیثِ پاک پڑھائی لیکن کیا مجال کہ کسی وقت بھی بغیر مطالعہ کوئی کتاب پڑھائی ہو ۔ ([2])

ہر مرض کی دوا ذکر مصطفٰے

درسِ حدىث شرىف کى  غرض و غاىت اور موضوع ہى ذکرِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے،  اس لىے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  احادىث کى شرح بیان کرتے ہوئے سرورِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکرِ پاک  اور اَوصافِ حَمیدہ بھی ضرور بیان فرماتے حدیث پڑھتے پڑھاتے ہوئے جھومتےجاتے  اور عشق مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مىں  آنکھوں سے  آنسو بہتے رہتے اس غایت درجہ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: جب لوگ بىمار ہوتے ہىں ،  بخار ىا سر درد ہوتا ہے تو وہ دوائى کھاتے ہىں،  لىکن مجھے تکلىف ہوتى ہے تو مىں حدىثِ مصطفےٰ پڑھاتا ہوں جس سے مجھے آرام آجاتا ہے۔([3])

محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہر  اداسے پیار

حضرت محدث ِاعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانصرف علم کى دولت ہى نہىں بانٹتے تھے بلکہ عمل کے جوہر کو بھى نکھارتے تھے تاکہ مخاطب سننےکے ساتھ ساتھ عمل کے سانچے مىں ڈھل جائے چنانچہ حدیث میں پیارے آقا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تبسم فرمانے کا ذکر آتا تو اس ادائے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنانے کے لئے خود بھی تبسم فرمایاکرتے  اور طلبا کو بھی ہدایت کیا کرتے اگر کسی کے لبوں پر تبسم نہ دیکھتے تو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے : آپ کے لبوں پر تبسم کیوں نہیں؟ رسول پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادائے تبسم پر اگرآپ تبسم نہ کریں گے تو بَھلا  اور کون سا موقع ہوگا؟ ([4])

 



[1]     حیات محدث اعظم، ص۵۸، ۵۹ملخصاًوغیرہ

[2]     حیات محدث اعظم ، ص۴۹ملخصاًوغیرہ

[3]     حیات محدث اعظم، ص۱۵۳وغیرہ

[4]     حیات محدث اعظم، ص۶۱ملخصاً



Total Pages: 22

Go To