Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان اگست 1947 ء میں رمضان المبارک کی تعطیلات گزارنے اپنے آبائی گاؤں دیال گڑھ (ضلع گورداس  پور)  میں تشریف فرما تھے کہ تقسیمِ ہندکا اعلان ہوا اور پورا ملک فسادات کی لپیٹ میں آگیاچنانچہ آپ  رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اہل وعیال  سمیت ہجرت فرمائی اور مرکز الاولیاء لاہور تشریف لے آئے چند ماہ جامعہ محمدیہ نوریہ رضویہ بھکھی شریف  (ضلع منڈی بہاؤالدین پنجاب ) ،  ساروکی  (تحصیل وزیرآبادضلع گوجرانوالہ ) میں قیام اور تدریس کا سلسلہ رہا۔ ملک کے طول وعرض سے علماو مشائخ اور سجادہ نشین حضرات کی جانب سےتدریس اور قیام کی پرزور پیشکش ہوئی مگر آپ  رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:میں استاذی المکرم مفتی امجد علی اعظمی صاحب اور مفتی اعظم ہند مصطفٰے رضا خان صاحب کے حکم کا منتظر ہوں جس جگہ وہ فرمائیں گے یا غیبی اشارہ ہوگا وہیں قیام کروں گا۔ چونکہ لائل پور  ([1]) جیسا صنعتی شہر ، تجارتی مرکز اور زرعی علاقہ مذہبی طور پر خشک و بَنجر ہو چکا تھالہذا اس بد مذہبی کے جمود کو توڑنے کے لئے  مفتی اعظم  ہند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی جانب سے لائل پور میں قیام کا اشارہ ملا یوں  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لائل پور میں جلوہ فرما ہوگئے ۔  ([2])  

جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام کی بنیاد

حضرت ِمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے شوالُ المکرم ۱۳۶۸ھ بمطابق اگست 1949ءمیں ایک مکان کرائے پر لیا اورعارضی طور پر پڑھانا شروع کردیا پھر مسجد”شاہی“ میں چھت کےبغیر ایک شامیانے کے نیچے  فرش پربیٹھ کر موسم کى شدت اور دھوپ چھاؤں سے بے پروا ہو کر جان کى حفاظت اور صحت کی پرواہ  کىے بغىر تَوَ کُّل عَلٰى اللہ کرتے ہوئے طلبہ کو درسِ حدىث دىنا شروع فرمادىا،  رفتہ رفتہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلوص و تقوىٰ  اور مسلک سے پختگى کى برکت سے حق کى آواز پھىلنے لگى اور عوام و خواص کے آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا،   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علم و فضل ، حقانىت و صداقت،  مستقل مزاجی ،   تحمل و بردبارى ،  اَخلاق و انکسارى اور مہمان نوازى نے ہر آنے والے کو متاثر کىا۔چند ماہ بعد ۱۲ ربىع الاول ۱۳۶۹ھ/2 جنورى1950ء کے پُر بہار موقع پربعد نماز عصر آپ نے احبابِ اہل سنت کے اجتماع مىں اس عظىم مِلّى ىونىورسٹى جامعہ مظہر  اسلام جھنگ بازار کا سنگِ بنىاد اپنے دستِ مبارک سے رکھا اور دعائے خىر و برکت فرمائى۔ ([3])  

امام مالک رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی یاد تازہ ہوگئی

حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حدىث پاک کى تعظىم مىں خوشبو لگاتے،  اعلىٰ لباس زىب تن کرتے اوراطمینان سے بىٹھ کر پُروقار لہجے مىں درس حدىث دىتے۔ اسى حال کى عکاسی حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کى مَسند تدرىس سے ہوتى ہےکہ آپ بھی حدىثِ پاک پڑھانے کے لىے خاص اہتمام فرمایا کرتےچنانچہ دارالحدىث روانگى سے قبل وضو ىا غسل فرماتے،  اچھااور اُجلا لباس زىب تن کرتے،  عمامہ شرىف پہنتے،  اس تىارى سے اىسا لگتا تھا جىسے آپ کسى بہت بڑى شخصىت کى ملاقات کو جارہے ہوں۔ ([4])

اندازِ تدریس

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب  مَسندِ تدرىس پر جلوہ گر ہوتے تو طلبہ ادب و احترام کى تصوىر بنے صف بستہ نصف دائرے کى شکل مىں بىٹھتے،  بالعموم درسِ حدىث کى اِبتدا مندرجہ ذىل درود پاک ىا قصىدہ بردہ شرىف سے فرماتے خود بھى بڑے سوز سے پڑھتے اور طلبا سے بھى پڑھواتے۔

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى بَدۡرِ التَّام                                                                                                                           اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى نُوۡرِ الظّلَام

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى مِفۡتَاحِ دَارِالسَّلَام                                                                                اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى شَفِيۡعِ جَمِيۡعِ الۡاَنَام

 



[1]     لائل پور کا موجودہ نام فیصل آباد ہے جسے شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے نام کی مناسبت سے ”سردار آباد“ کہہ کر پکارتے ہیں ۔

[2]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان ، ۱ / ۱۵۰تا ۱۵۲ملخصاًوغیرہ

[3]    تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۱۲۹ملخصاً وغیرہ

[4]     حیات محدث اعظم، ص۵۷ملخصاًوغیرہ



Total Pages: 22

Go To