Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

سنّت ملحوظ رکھتے۔ بلا ناغہ اسباق کے مطالعہ مىں انہماک،  کم کھانا،  کم سونا  اور شب و روز تحصىلِ علم مىں مصروف رہنا آپ کا معمول تھا۔ ([1])

جن دنوں محدث اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان منظر ِاسلام بریلی شریف میں زیر ِ تعلیم تھے ان دنوں مدرسے میں بجلی کا انتظام نہ تھا چنانچہ  ساتھی طلبہ کے سوجانے کے بعد بھی محلہ سوداگران میں سرکاری لالٹین کی روشنی میں اپناسبق یاد کیا کرتے جب شفیق اساتذہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کے کمرے میں لالٹین کا بندوبست کردیا ۔ ([2])

کثرتِ مُطالَعہ

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسجد میں حاضر ہوتے اورنمازِ باجماعت میں کچھ تاخیر ہوتی تو کسی کتاب کا مطالعہ  شروع کر دیتےاسی طرح نمازِ عشاء کے بعد کتب سامنے رکھ کر بىٹھ جاتے اور مطالعہ کرتے،  بسا اوقات فجر کى اذانىں شروع ہوجاتىں،  استاد گرامى صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی  امجد على اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے آپ کى اَن تھک محنت  دىکھی تو خادم کو ہداىت فرمائى کہ سردار احمد کو نماز مغرب سے پہلے کھانا کھلادىا کرو تاکہ مطالعہ مىں حرج نہ ہو۔ ([3])

حصولِ علم کی لگن، اللہ اللہ !

دورانِ تعلیم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر ( دىال گڑھ ضلع گورداس پور)  سے  خطوط آتے توان کو پڑھے بغىر اىک مٹکے مىں ڈال دیتے،  تعلىم سے فارغ ہوکر سب  خطوط کو اىک ہى دفعہ پڑھااور  سب کے لىے دعا کردی ،  کىونکہ ان خطوط میں کسى کى بىمارى کا ذکرتھا تو کسى کے فوت ہونے  کا۔ ([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی حضور محدث ِاعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے جس محنت ،  لگن اور جستجو  کے ساتھ علم دین حاصل کیا اس کی مثال عصر حاضر میں پیش کرنا مشکل ہےاے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ  وَجَلَّہمیں حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے صدقے خوب خوب علمِ دین سیکھنےاور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرما ۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ!               اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تدرىس کا آغاز

محدثِ اعظم پاکستان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے۱۳۵۲ھ بمطابق1932ءہى مىں دارالعلوم ”منظرِاسلام“ برىلى شرىف مىں اپنى تدرىسى زندگی کا آغاز کیا، تین سال  بعد استاذِ گرامى مولانا مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی مدرسہ”حافظیہ سعیدیہ“دادون  ( على گڑھ یوپی)  تشریف لے گئے تو آپ صدر المدرسىن کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئےپھر  ۱۳۵۶ھ میں مسجد ’’بی بی جی‘‘ میں دارالعلوم مظہرِ اسلام  کا قیام عمل میں آیا تو آپ وہاں تشریف لے گئے ۔ یوں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے پندرہ سال تک متواتر بریلی شریف میں درس وتدریس اور خطابت کے فرائض سرانجام دئیے۔ ([5])

بریلی کا چاند لائل پور میں چمکا

 



[1]     حیات محدث اعظم ، ص۳۸ملخصاً

[2]     سیرتِ صدرالشریعہ، ص۲۰۱

[3]     حیات محدث اعظم، ص۳۶ملخصاًوغیرہ

[4]     حیات محدث اعظم، ص۴۰ملخصاً

[5]     حیات  محدث اعظم، ص۴۴تا ۴۵ ملخصاً



Total Pages: 22

Go To