Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

زیارت ِ ولی نے دل کی دنیا بدل دی

حضرت ِمحدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے اپنى ابتدائى تعلىم دىال گڑھ ہى مىں حاصل کى،  مىٹرک  کے بعد مزىد تعلىم کے لىے مرکز الاولیاء لاہور تشریف لائے اور انٹرمىڈىٹ مىں  داخلہ لے لىا،  اسى دوران جامع مسجد وزىر خان مرکز الاولیاء لاہور مىں اىک جلسہ منعقد ہوا،  جس مىں اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکے شہزادے  حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنرونق افروز تھے  مشتاقانِ دید پروانوں کی طرح ارد گرد منڈلارہے تھے،  اسی ہجوم میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے حجۃ الاسلام حضرت مولانا مفتی حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنکے نورانی چہرے کی زیارت کی اور دست بوسی کی سعادت پائی ۔ اس ایک ملاقات  نے  ایسا اثر کیا کہ دل کی دنیا ہی بدل گئی  چنانچہ جلسے کے اختتام پر حجۃ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى قىام گاہ پر پہنچے اورعرض گزار ہوئے : مجھے اب اىف،  اے (F.A)  کرنے کا کوئى شوق نہىں میں آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں تاکہ  وہ علم حاصل کرسکوں جس کے آپ نمائندہ ہىں۔ولیِ کامل حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن نے اس عرض گزار کی پیشانی پر سعادتِ ازلی کے چمکتے ہوئےآثار دیکھے تو بھانپ گئے کہ یہ نوجوان ملت اسلامیہ کے ماتھے کا جُھومر اور اہلِ سنت کا عظیم رہبر ہوگا لہذا بکمالِ شفقت درخواست کو شرف قبولیت عطا فرمایااور دو دن مزید قیام فرماکر اپنے ساتھ بریلی شریف لے آئے ۔ ([1])

حجۃ الاسلام کی شفقتیں  

حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن محدثِ اعظم پاکستان  عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنپراس قدر  شفقت فرمایاکرتے تھے کہ دورانِ تعلیم آپ کو اپنے آستانے پر ٹھہرایا اور کھانے پینے، رَہن سَہن کے تمام اخراجات اپنے ذمے  لئے ۔جیسا لباس اپنے صاحب زادوں مفسرِ اعظم شاہ محمد ابراہیم رضا خان جیلانی اور حضرت مولانا شاہ محمد حَمَّاد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما کے لئے سِلواتے ویسا ہی  آپ کے لئے  سلواتے یہاں تک کہ لباس کے رنگ میں بھی یکسانیت اختیار  فرمایاکرتے ۔ ([2])

صدرُ الشَّرِیعہ کا دامن تھام کر رکھا

دارالعلوم منظر اسلام  (بریلی شریف یوپی ہند ) میں آپ نے حجۃ الاسلام مولانا مفتی حامد رضا خان ،  مفتى اعظم ہند مولانا مفتی مصطفےٰ رضا خان اور صدر الشرىعہ مولانا مفتی امجد على اعظمى رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سے اکتسابِ علم کىا، پھر صدر الشریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ ’’جامعہ معىنىہ عثمانیہ“ ( اجمىر شرىف راجستھان) تشریف چلے گئےاور ان کتابوں کا بھى درس لىا جن سے عام طور پر طلبہ ناواقف رہتے ہىں۔ ([3])

 جب صدر الشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صدر المدرسین کی حیثیت سے دوبارہ منظر اسلام بریلی شریف میں جلوہ فرماہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تشریف لے آئے اور ۱۳۵۲ھ /1932ء میں دارالعلوم منظرِ اسلام سے سند فراغت حاصل کی ۔ ([4])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اِن سب پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                       صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

طالب علم ہو تو ایسا

حافظِ ملت مولانا عبد العزیز مبارک پوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دورانِ تعلیم آپ کے تقویٰ و طہارت اور اتباع ِ سنّت کو نہایت شاندار الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں : خوفِ الٰہی و خشیت ِ ربانی ، زہدو تقویٰ ، اتباع ِ سنّت آپ کی طبیعت بن چکی تھی ہر قول و فعل تمام حرکات و سکنات نشست وبرخاست میں اتباعِ



[1]     حیات  محدث اعظم ، ص۳۳ ملخصاًوغیرہ

[2]     حیات  محدث اعظم، ص۳۴ ملخصاً

[3]     تذکرہ مشائخ قادریہ ، ص ۲۸۳ملخصاًوغیرہ

[4]     سیرت صدر الشریعہ ، ص ۲۰۲



Total Pages: 22

Go To