Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

داخل ہوا تو عشق رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤں نے اور ہی رنگ اختیار کرلیاجس کے اثرات نمایاں اور بہت ہی واضح ہوگئے ہوا  کچھ یوں کہ تابوت مبارک پر انوار و تجلیات کی بارش ہر آنکھ  کو صاف طور پر نظر آنے لگی ، بچے بوڑھے جوان ہر قسم کے لوگ وہاں موجود تھے اور بڑی حیرت سے عالم انوار کی اس بارش کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کررہے تھے جب یہ بے مثال جلوس گھنٹہ گھر پہنچا تو یکایک اس نور نے دبیز چادر کی صورت اختیار کرلی اور سارا تابوت اس میں چھپ گیا چمکیلے تانبے کے باریک پتروں کی طرح نور کی سنہری کرنیں تابوت پر گر رہی تھیں ہزار ہا افراد نے تعجب سے اس آسمانی منظر کو دیکھا کچھ دیر تک یہی کیفیت رہی پھر آہستہ آہستہ تابوت دوبارہ نظر آنا شروع ہوا بالآخر جنازہ مبارکہ  ایک وسیع و عریض میدان میں لایاگیا جہاں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی  نمازجنازہ تلمیذوخلیفہ ٔمحدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولاناابوالشاہ عبد القادر احمد آبادی  (بانی جامعہ قادریہ رضویہ سردارآباد) نے پڑھائی۔جنازے  میں اتنے لوگ شریک تھے کہ کبھی لائل پور کی تاریخ میں جمع نہ ہوئے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی آخری آرام گاہ جامعہ رضویہ مظہر اسلام میں واقع ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عرس مبارک ہر سال ۲۹، ۳۰رجب المرجب کونہایت عقیدت و محبت سے منایا جاتاہے جس میں ملک بھر سے تشریف لائے ہوئے علماومشائخ کرام اپنے نورانی وعلمی  بیانات سے حاضرین و سامعین کے قلوب کو جِلا بخشتے ہیں ۔ ([1])

فیضانِ محدثِ اعظم جاری رہے گا

مولانا محمد احسن چشتی نظامی محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے وصال مبارک کے دس برس بعد کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۲۰ محرم الحرام ۱۳۹۲ ھ بروز منگل رات کو اپنا ایک مضمون مکمل کرنے کے لئے مجھےبخاری شریف کی ایک حدیث پاک کی تلاش تھی ۔میں نے بہت ڈھونڈی مگر تلاش بسیار کے باوجود میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اسی پریشانی کے عالم میں ساڑھے دس بجے کے قریب  میری آنکھ لگ گئی۔آنکھ تو کیا لگی قسمت جاگ اٹھی،  محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چاند سا چہرہ چمکاتے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:نظامی صاحب ! پریشان کیوں ہیں ؟ میں نے عرض کی :حضور!  ایک حدیث پاک ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا ہوں مگر مل نہ سکی ،  یہ کہہ کروہ  حدیثِ پاک حضرت محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے گوش گزار کی تو فوراً فرمایا:یہ حدیث پاک بخاری شریف کے فلاں صفحہ پر ہے،  چنانچہ میں نے خواب میں ہی بخاری شریف آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے حضور پیش کردی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے جونہی بخاری شریف کھولی اسی صفحے پر میری مطلوبہ حدیث پاک جگمگا رہی تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:لو ! یہ رہی وہ حدیثِ پاک ۔اس کے فوراً بعد میری آنکھ کھل گئی میں نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو حضور محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  مجھے کہیں نظر نہ آئے بالآخر میں نے اٹھ کر وضو کیا اور دو رکعت نفل ادا کئے پھر بخاری شریف کھول کر حضرت محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا خواب میں بتایا ہوا صفحہ نکالا تو میں حیران رہ گیااس صفحہ پر وہی حدیث مبارک میری آنکھوں کو  ٹھنڈک اور دل کو سکون بخش رہی تھی۔([2])

مزاراتِ  اولیاء پر دی جانے والی نیکی کی دعوت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  آپ کو مزار شریف پر آنا مبارک ہو،  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ !  تبلیغ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی طرف سے سنّتوں بھرے مَدَنی حلقوں کا سِلسِلہ جاری ہے ،  یقیناً زندگی بے حد مختصر ،  ہم لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں، عنقریب ہمیں اندھیری قبر میں اترنا اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا ،  ان انمول لمحات کو غنیمت جانئے اور آئیے !  اَحکامِ الٰہی پر عمل کا جذبہ پانے ،  مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتیں اور اللہ کے نیک بندوں کے مزارات پر حاضری کے آداب سیکھنے سکھانے کے لئے مَدَنی حلقوں میں شامل ہوجائیے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو دونوں جہاں کی بھلائیوں سے مالا مال فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم



[1]     حیات محدث اعظم، ص۳۳۳ تا ۳۴۲ ملخصاً

[2]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۵۲۳بتغیر



Total Pages: 22

Go To