Book Name:Faizan e Muhaddis e Azam Pakistan

مولانا سىد زاہد على شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بلاىا اور فرماىا۔ تم دونوں میری  چھڑی لے کر ان کے گھر جاؤ اور اُسے صحن میں مار کر کہو: ہمىں سردار احمد نے بھىجا ہے اور ىہ اُن کى چھڑى ہے،  خبردار! !  آئندہ اىسى حرکت ہر گز نہ کرنا۔چنانچہ  ہم دونوں ان صاحب  کے گھر گئے اور حسبِ حکم جنوں کو وہ پیغام پہنچا کر لوٹ آئے ، کچھ دنوں بعد وہ صاحب  حاضر ہو ئے اور  عرض گزار ہوئے :اللہ تَعَالٰی کے  فضل وکرم سے  اب کوئى خوف وہراس نہىں رہا،   اب پتھر برستے ہىں نہ اینٹیں گرتی ہیں ۔ ([1])

محدثِ اعظم پاکستان  کامقام علمائے  کرام کی نظر میں :

استاذگرامی صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میری زندگی میں دوہی باذوق پڑھنے والے ملے ایک مولوی سردار احمد  (یعنی  محدثِ اعظم پاکستان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) اور دوسرے حافظ عبد العزیز  (یعنی حافظ ملت مولانا شاہ عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بانی الجامعۃ الاشرفیہ) ۔  ([2])

 دوسرے استاذِ گرامى مفتی اعظم ہند مولانا محمدمصطفےٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں: اگرچہ مولانا سردار احمد کو مىں نے پڑھاىا،  مگر آج وہ اس قابل تھے کہ مجھے پڑھاتے۔

صدر الافاضل مولانامحمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے ایک مرتبہ محدثِ اعظم پاکستان کو سنی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے مکتوب لکھا جس میں یہ الفاظ بھی تھے :آپ کی شرکت اس کانفرنس کی روح ہے۔ ([3])  

مجھے بریلی کی خوشبوآتی  ہے  

حضور محدثِ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کو۲۰جمادی الاخری ۱۳۸۲ھ میں علاج کی غرض سے باب المدینہ کراچى  لایا گیا انہی ایام علالت میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایاکرتے تھے  کہ کمرے کی سمندر کی جانب والی کھڑکی کھول دو اس طرف سے مجھے بریلی شریف کی خوشبو آتی ہے۔([4])

آہ ! سالارِقافلہ کی روانگی

علاج سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی طبیعت میں بہتری کے آثار نمودار ہوئے جو  ۲۵ رجب المرجب۱۳۸۲ھ بروز اتوارتک دیکھے گئےپھر نماز عصر کے لىے وضو فرماىا تو طبىعت گرنے لگى،  ۲۷ رجب  المرجب کو کمزورى بڑھى اور۲۹ تاریخ کو غنودگی کی کىفىت طارى ہوگئى،  دونوں ہاتھ بندھ گئے اسى دوران نبىرۂ غوثِ اعظم پىر زادہ سىد عبدالقادر گىلانى سفىر ِعراق تشرىف لائے تو آپ نے آنکھىں کھولىں،  پھردوبارہ  وہی کىفىت طارى ہوگئى،  پاس بىٹھے علما و خدام سے فرمایا:” يَا سَلَامُکثرت سے پڑھو۔ اسى عالم مىں آپ کے ہر سانس کے ساتھ ” الله ھُو   الله ھُو “ کى آوازىں آرہى تھىں،  بالآخر ىکم شعبان ۱۳۸۲ھ  بمطابق 29دسمبر 1962ء ہفتہ کى درمىانى رات اىک بج کر چالىس منٹ پر عالم اسلام کى فضاؤں کو اپنى نورانى کرنوں سے منور کرنے والا رشد و ہداىت کا مہر منىر ” الله ھُو“ کى آواز کے ساتھ دنىا کى ظاہرى نظروں سے ہمىشہ ہمىشہ کے لىے اوجھل ہوگىا۔ (انا لله وانا اليہ راجعون )

قلب و جگر کو پاش پاش کردىنے والى وصال پر ملال کی خبر نے پورے ملک مىں کہرام مچادىا،  جو جو خبر سنتا،  غم مىں ڈوب جاتا اوراس کی آنکھوں سے سیل اشک رواں ہوجاتے غسل اور کفن کا سلسلہ باب المدینہ کراچى مىں ہوا جس میں اکابر ِاہلسنّت نے شرکت کی حسب ِ وصیت کفن مبارک پر رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور غوثیت مآب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نام نامی لکھا گیا ۔آپ کا جنازہ مبارکہ  بذریعہ ٹرین باب المدینہ کراچی سے لائل پور لایا گیا ۔ہر اسٹیشن پر علمااور محبین کی کثیر تعداد موجود ہوتی جو پھولوں کے ہار لئے پروانہ وار کھڑی نظر آتی ، جنازہ مبارکہ لائل پور پہنچا تو اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی فضا ”نعرہ تکبیر“ اور” نعرہ رسالت “سے گونج رہی تھی آخرکار جنازہ مبارکہ کو اٹھایاگیا اورجس وقت  جنازہ مبارکہ کچہری بازار میں



[1]     حیات محدث اعظم، ص ۱۹۲

[2]     حیات حافظ ملت، ص۸۲۵

[3]     حیات محدث اعظم، ص ۳۸۷بتغیر

[4]     تذکرہ محدث اعظم پاکستان، ۲ /  ۳۷۴ملتقطاً



Total Pages: 22

Go To